سورہ Al-Jinn — آیت 24
جن · 72:24 · 24/28
حَتَّىٰٓ إِذَا رَأَوْا۟ مَا يُوعَدُونَ فَسَيَعْلَمُونَ مَنْ أَضْعَفُ نَاصِرًا وَأَقَلُّ عَدَدًا
Hatta itha raaw mayooAAadoona fasayaAAlamoona man adAAafu nasiranwaaqallu AAadada
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
یہاں تک کہ جب یہ لوگ وہ (دن) دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تب ان کو معلوم ہو جائے گا کہ مددگار کس کے کمزور اور شمار کن کا تھوڑا ہے
محمد جوناگڑھی
(ان کی آنکھ نہ کھلے گی) یہاں تک کہ اسے دیکھ لیں جس کا ان کو وعده دیا جاتا ہے پس عنقریب جان لیں گے کہ کس کا مددگار کمزور اور کس کی جماعت کم ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
(یہ لوگ اپنی اِس روش سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا اِن سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کا جتھا تعداد میں کم ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں گے وہ چیز جس کی انہیں دھمکی دی جا رہی ہے اس وقت انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون کمزور ہے مددگاروں کے اعتبار سے اور کون اقلیت میں ہے تعداد کے لحاظ سے۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
(ان کی آنکھ نہ کھلے گی) یہاں تک کہ اسے دیکھ لیں جس کا ان کو وعده دیا جاتا ہے[1] پس عنقریب جان لیں گے کہ کس کا مددگار کمزور اور کس کی جماعت کم ہے.[2]
حواشی
[1] یا مطلب یہ ہے کہ یہ نبی (صلى الله عليه وسلم) اور مومنین کی عداوت اور اپنے کفر پر مصر رہیں گے، یہاں تک کہ دنیا یا آخرت میں وہ عذاب دیکھ لیں گے، جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ [2] یعنی اس وقت ان کو پتہ لگے گا کہ مومنوں کا مددگار کمزور ہے یا مشرکوں کا؟ اہل توحید کی تعداد کم ہے یا غیر اللہ کے پجاریوں کی۔ مطلب یہ ہے کہ پھر مشرکین کا تو سرے سے کوئی مددگار ہی نہیں ہوگا اور اللہ کے ان گنت لشکروں کے مقابلے میں ان مشرکین کی تعداد بھی آٹے میں نمک کے برابر ہوگی۔