سورہ Al-Isra — آیت 8
رات کا صفر · 17:8 · 8/111
عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يَرْحَمَكُمْ ۚ وَإِنْ عُدتُّمْ عُدْنَا ۘ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَـٰفِرِينَ حَصِيرًا
AAasa rabbukum an yarhamakumwa-in AAudtum AAudna wajaAAalna jahannama lilkafireenahaseera
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
امید ہے کہ تمہارا پروردگار تم پر رحم کرے، اور اگر تم پھر وہی (حرکتیں) کرو گے تو ہم بھی (وہی پہلا سلوک) کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے
محمد جوناگڑھی
امید ہے کہ تمہارا رب تم پر رحم کرے۔ ہاں اگر تم پھر بھی وہی کرنے لگے تو ہم بھی دوباره ایسا ہی کریں گے اور ہم نے منکروں کا قید خانہ جہنم کو بنا رکھا ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
ہو سکتا ہے کہ اب تمہارا ربّ تم پر رحم کرے، لیکن اگر تم نے پھر اپنی سابق روش کا اعادہ کیا تو ہم بھی پھر اپنی سزا کا اعادہ کریں گے، اور کافرِ نعمت لوگوں کے لیے ہم ے جہنّم کو قید خانہ بنا رکھا ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
ہوسکتا ہے کہ اب تمہارا رب تم پر رحم کرے اور اگر تم نے وہی روش اختیار کی تو ہم بھی وہی کچھ کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ بنا رکھا ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
امید ہے کہ تمہارا رب تم پر رحم کرے۔ ہاں اگر تم پھر بھی وہی کرنے لگے تو ہم بھی دوباره ایسا ہی کریں[1] گے اور ہم نے منکروں کا قید خانہ جہنم کو بنا رکھا ہے.[2]
حواشی
[1] یہ انہیں تنبیہ کی کہ اگر تم نے اصلاح کر لی تو اللہ کی رحمت کے مستحق ہو گے۔ جس کا مطلب دنیا وآخرت کی سرخ روئی اور کامیابی ہے اور اگر دوبارہ اللہ کی نافرمانی کا راستہ اختیار کر کے تم نے فساد فی الارض کا ارتکاب کیا تو ہم پھر تمہیں اسی طرح ذلت و رسوائی سے دو چار کر دیں گے۔ جیسے اس سے قبل دو مرتبہ ہم تمہارے ساتھ یہ معاملہ کر چکے ہیں چنانچہ ایسا ہی ہوا یہ یہود اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے اور وہی کردار رسالت محمدیہ کے بارے میں دہرایا جو رسالت موسوی اور رسالت عیسوی میں ادا کر چکے تھے جس کے نتیجے میں یہ یہودی تیسری مرتبہ مسلمانوں کے ہاتھوں ذلیل وخوار ہوئے اور بصد رسوائی انہیں مدینے اور خیبر سے نکلنا پڑا۔ [2] یعنی اس دنیا کی رسوائی کے بعد آخرت میں جہنم کی سزا اور اس کا عذاب الگ ہے جو وہاں انہیں بھگتنا ہو گا۔