سورہ Al-Isra — آیت 54
رات کا صفر · 17:54 · 54/111
رَّبُّكُمْ أَعْلَمُ بِكُمْ ۖ إِن يَشَأْ يَرْحَمْكُمْ أَوْ إِن يَشَأْ يُعَذِّبْكُمْ ۚ وَمَآ أَرْسَلْنَـٰكَ عَلَيْهِمْ وَكِيلًا
Rabbukum aAAlamu bikum in yasha' yarhamkumaw in yasha' yuAAaththibkum wama arsalnakaAAalayhim wakeela
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
تمہارا پروردگار تم سے خوب واقف ہے۔ اگر چاہے تو تم پر رحم کرے یا اگر چاہے تو تمہیں عذاب دے۔ اور ہم نے تم کو ان پر داروغہ (بنا کر) نہیں بھیجا
محمد جوناگڑھی
تمہارا رب تم سے بہ نسبت تمہارے بہت زیاده جاننے واﻻ ہے، وه اگر چاہے تو تم پر رحم کردے یا اگر وه چاہے تمہیں عذاب دے۔ ہم نے آپ کو ان کا ذمہ دار ٹھہرا کر نہیں بھیجا.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
تمہارا ربّ تمہارےحال سے زیادہ واقف ہے ، وہ چاہے تو تم پر رحم کرے اور چاہے تو تمہیں عذاب دے دے۔ اور اے نبی ؐ ، ہم نے تم کو لوگوں پر حوالہ دار بنا کر نہیں بھیجا ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
تمہارا رب تم سے خوب واقف ہے۔ اگر وہ چاہے گا تو تم پر رحم فرمائے گا یا اگر چاہے گا تو تمہیں عذاب دے گا اور (اے نبی !) ہم نے آپ کو ان پر داروغہ بنا کر نہیں بھیجا
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
تمہارا رب تم سے بہ نسبت تمہارے بہت زیاده جاننے واﻻ ہے، وه اگر چاہے تو تم پر رحم کردے یا اگر وه چاہے تمہیں عذاب دے[1] ۔ ہم نے آپ کو ان کا ذمہ دار ٹھہرا کر نہیں بھیجا.[2]
حواشی
[1] اگر خطاب مشرکین سے ہو تو رحم کے معنی قبول اسلام کی توفیق کے ہونگے اور عذاب سے مراد شرک پر ہی موت ہے، جس پر وہ عذاب کے مستحق ہوں گے۔ اور اگر خطاب مومنین سے ہو تو رحم کے معنی ہوں گے کہ وہ کفار سے تمہاری حفاظت فرمائے گا اور عذاب کا مطلب ہے کفار کا مسلمانوں پر غلبہ و تسلط۔ [2] کہ آپ انہیں ضرور کفر کی دلدل سے نکالیں یا ان کے کفر پر جمے رہنے پر آپ سے باز پرس ہو۔