سورہ Al-Isra — آیت 46
رات کا صفر · 17:46 · 46/111
وَجَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِىٓ ءَاذَانِهِمْ وَقْرًا ۚ وَإِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِى ٱلْقُرْءَانِ وَحْدَهُۥ وَلَّوْا۟ عَلَىٰٓ أَدْبَـٰرِهِمْ نُفُورًا
WajaAAalna AAala quloobihimakinnatan an yafqahoohu wafee athanihim waqran wa-ithathakarta rabbaka fee alqur-ani wahdahuwallaw AAala adbarihim nufoora
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کر دیتے ہیں۔ اور جب تم قرآن میں اپنے پروردگار یکتا کا ذکر کرتے ہو تو وہ بدک جاتے اور پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں
محمد جوناگڑھی
اور ان کے دلوں پر ہم نے پردے ڈال دیئے ہیں کہ وه اسے سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ اور جب تو صرف اللہ ہی کا ذکر اس کی توحید کے ساتھ، اس قرآن میں کرتا ہے تو وه روگردانی کرتے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اور ان کے دلوں پر ایسا غلاف چڑھادیتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سمجھتے، اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کر دیتے ہیں۔ اور جب تم قرآن میں اپنے ایک ہی ربّ کا ذکر کرتے ہو تو وہ نفرت سے منہ موڑ لیتے ہیں۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور ان کے دلوں پر بھی ہم پردے ڈال دیتے ہیں کہ وہ اسے سمجھ نہ سکیں اور ان کے کانوں میں ثقل (پیدا کردیتے ہیں) اور جب آپ قرآن میں تنہا اپنے رب ہی کا ذکر کرتے ہیں تو یہ اپنی پیٹھیں موڑ کر چل دیتے ہیں نفرت کے ساتھ
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور ان کے دلوں پر ہم نے پردے ڈال دیئے ہیں کہ وه اسے سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ اور جب تو صرف اللہ ہی کا ذکر اس کی توحید کے ساتھ، اس قرآن میں کرتا ہے تو وه روگردانی کرتے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں.[1]
حواشی
[1] أَكِنَّةً، كِنَانٌ کی جمع ہے ایسا پردہ جو دلوں پر پڑ جائے۔ وَقْرٌ کانوں میں ایسا ثقل یا ڈاٹ جو قرآن کے سننے میں مانع ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے دل قرآن کے سمجھنے سے قاصر اور کان قرآن سن کر ہدایت قبول کرنے سے عاجز ہیں، اور اللہ کی توحید سے انہیں اتنی نفرت ہے کہ اسے سن کر تو بھاگ ہی کھڑے ہوتے ہیں، ان افعال کی نسبت اللہ کی طرف، بہ اعتبار خلق کے ہے۔ ورنہ ہدایت سے محرومی ان کے جمود و عناد ہی کا نتیجہ تھا۔