سورہ Al-Isra — آیت 104

رات کا صفر · 17:104 · 104/111

وَقُلْنَا مِنۢ بَعْدِهِۦ لِبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱسْكُنُوا۟ ٱلْأَرْضَ فَإِذَا جَآءَ وَعْدُ ٱلْـَٔاخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا

Waqulna min baAAdihi libanee isra-eelaoskunoo al-arda fa-itha jaa waAAdu al-akhiratiji'na bikum lafeefa

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ تم اس ملک میں رہو سہو۔ پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا تو ہم تم سب کو جمع کرکے لے آئیں گے

محمد جوناگڑھی

اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے فرما دیا کہ اس سرزمین پر تم رہو سہو۔ ہاں جب آخرت کا وعده آئے گا ہم تم سب کو سمیٹ اور لپیٹ کر لے آئیں گے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ اب تم زمین میں بسو، پھر جب آخرت کے وعدے کا وقت آن پُورا ہوگا تو ہم تم سب کو ایک ساتھ لا حاضر کریں گے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ تم لوگ زمین میں آباد ہوجاؤ پھر جب آئے گا پچھلے وعدے کا وقت تو ہم لے آئیں گے تم سب کو سمیٹ کر

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے فرما دیا کہ اس سرزمین[1] پر تم رہو سہو۔ ہاں جب آخرت کا وعده آئے گا ہم تم سب کو سمیٹ اور لپیٹ کر لے آئیں گے.

حواشی

[1] بظاہر اس سرزمین جس سے فرعون نے موسیٰ (عليه السلام) اور ان کی قوم کو نکالنے کا ارادہ کیا تھا۔ مگر تاریخ بنی اسرائیل کی شہادت یہ ہے کہ مصر سے نکلنے کے بعد دوبارہ مصر نہیں گئے، بلکہ چالیس سال میدان تیہ میں گزار کر فلسطین میں داخل ہوئے۔ اس کی شہادت سورہ اعراف وغیرہ میں قرآن کے بیان سے ملتی ہے۔ اس لئے صحیح یہی ہے کہ اس سے مراد فلسطین کی سرزمین ہے۔