سورہ Al-Isra — آیت 100
رات کا صفر · 17:100 · 100/111
قُل لَّوْ أَنتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّىٓ إِذًا لَّأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ ٱلْإِنفَاقِ ۚ وَكَانَ ٱلْإِنسَـٰنُ قَتُورًا
Qul law antum tamlikoona khaza-inarahmati rabbee ithan laamsaktum khashyata al-infaqiwakana al-insanu qatoora
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے خوف سے (ان کو) بند رکھتے۔ اور انسان دل کا بہت تنگ ہے
محمد جوناگڑھی
کہہ دیجیئے کہ اگر بالفرض تم میرے رب کی رحمتوں کے خزانوں کے مالک بن جاتے تو تم اس وقت بھی اس کے خرچ ہوجانے کے خوف سے اس کو روکے رکھتے اور انسان ہے ہی تنگ دل.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اے محمد ؐ ، اِن سے کہو، اگر کہیں میرے ربّ کی رحمت کے خزانے تمہارے قبضے میں ہوتے تو تم خرچ ہو جانے کے اندیشے سے ضرور ان کو روک رکھتے۔ واقعی انسان بڑا تنگ دل واقع ہوا ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
آپ کہیے کہ اگر تمہیں اختیار ہوتا میرے رب کی رحمت کے خزانوں پر تب بھی تم ضرور روک رکھتے (انہیں) خرچ ہوجانے کے ڈر سے اور انسان بہت ہی تنگ دل ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
کہہ دیجیئے کہ اگر بالفرض تم میرے رب کی رحمتوں کے خزانوں کے مالک بن جاتے تو تم اس وقت بھی اس کے خرچ ہوجانے[1] کے خوف سے اس کو روکے رکھتے اور انسان ہے ہی تنگ دل.
حواشی
[1] خَشْيَةَ الإنْفَاقِ کا مطلب ہے۔ خَشْيَةَ أَنْ يُنْفِقُوا فَيَفْتَقِرُوا۔ اس خوف سے کہ خرچ کر کے ختم کر ڈالیں گے، اس کے بعد فقیر ہو جائیں گے۔ حالانکہ یہ خزانہ الٰہی جو ختم ہونے والا نہیں لیکن چونکہ انسان تنگ دل واقع ہوا ہے، اس لئے بخل سے کام لیتا ہے۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالٰی نے فرمایا «اَمْ لَهُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا» (النساء:53)۔ یعنی ان کو اگر اللہ کی بادشاہی میں سے کچھ حصہ مل جائے تو یہ لوگوں کو کچھ نہ دیں۔ نقیر کھجور کی گٹھلی میں جو گڑھا ہوتا ہے اس کو کہتے ہیں یعنی تل برابر بھی کسی کو نہ دیں یہ تو اللہ کی مہربانی اور اس کا فضل وکرم ہے کہ اس نے اپنے خزانوں کے منہ لوگوں کے لیے کھولے ہوئے ہیں جس طرح حدیث میں ہے اللہ کے ہاتھ بھرے ہوئے ہیں وہ رات دن خرچ کرتا ہے لیکن اس میں کوئی کمی نہیں آتی ذرا دیکھو تو سہی جب سے آسمان و زمین اس نے پیدا کیے ہیں کس قدر خرچ کیا ہوگا لیکن اس کے ہاتھ میں جو کچھ ہے اس میں کمی نہیں۔ ”وہ بھرے کے بھرے ہیں“۔ ( البخاري- كتاب التوحيد، باب وكان عرشه على الماء- مسلم، كتاب الزكاة، باب الحث على النفقة وتبشير المنفق بالخلف )۔