سورہ Al-Hijr — آیت 33
پتھر · 15:33 · 33/99
قَالَ لَمْ أَكُن لِّأَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُۥ مِن صَلْصَـٰلٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ
Qala lam akun li-asjuda libasharinkhalaqtahu min salsalin min hama-in masnoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
(اس نے) کہا کہ میں ایسا نہیں ہوں کہ انسان کو جس کو تو نے کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے بنایا ہے سجدہ کروں
محمد جوناگڑھی
وه بوﻻ کہ میں ایسا نہیں کہ اس انسان کو سجده کروں جسے تو نے کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اس نے کہا "میرا یہ کام نہیں ہے کہ میں اِس بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے پیدا کیا ہے"
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اس نے کہا : میرے لیے روا نہیں ہے کہ سجدہ کروں اس بشر کو جسے تو نے پیدا کیا ہے سنے ہوئے گارے کی کھنکھناتی مٹی سے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
وه بوﻻ کہ میں ایسا نہیں کہ اس انسان کو سجده کروں جسے تو نے کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے.[1]
حواشی
[1] شیطان نے انکار کی وجہ حضرت آدم (عليه السلام) کا خاکی اور بشر ہونا بتلایا، جس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان اور بشر کو اس کی بشریت کی بنا پر حقیر اور کم تر سمجھنا یہ شیطان کا فلسفہ ہے، جو اہل حق انبیاء علیہم السلام کی بشریت کے منکر نہیں، اس لئے کہ ان کی بشریت کو خود قرآن کریم نے وضاحت سے بیان کیا ہے۔ علاوہ ازیں بشریت ان کی عظمت اور شان میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔