سورہ Al-Hashr — آیت 6

حشر · 59:6 · 6/24

وَمَآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ مِنْهُمْ فَمَآ أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُۥ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ

Wama afaa Allahu AAalarasoolihi minhum fama awjaftum AAalayhi min khaylin walarikabin walakinna Allaha yusalliturusulahu AAala man yashao wallahuAAala kulli shay-in qadeer

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور جو (مال) خدا نے اپنے پیغمبر کو ان لوگوں سے (بغیر لڑائی بھڑائی کے) دلوایا ہے اس میں تمہارا کچھ حق نہیں کیونکہ اس کے لئے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ لیکن خدا اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

محمد جوناگڑھی

اور ان کا جو مال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ہاتھ لگایا ہے جس پر نہ تو تم نے اپنے گھوڑے دوڑائے ہیں اور نہ اونٹ بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو جس پر چاہے غالب کر دیتا ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور جو مال اللہ نے اُن کے قبضے سے نکال کر اپنے رسُول کی طرف پلٹا دیے، وہ ایسے مال نہیں ہیں جن پر تم نے اپنے گھوڑے اور اُونٹ دوڑائے ہوں، بلکہ اللہ اپنے رسُولوں کو جس پر چاہتا ہےتسلّط فرما دیتا ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور جو مال کہ ہاتھ لگا دیا ہے اللہ نے اپنے رسول ﷺ کے ان (بنونضیر) سے تو (اے مسلمانو !) تم نے اس پر نہیں دوڑائے گھوڑے اور نہ اونٹ لیکن مسلط کردیتا ہے اللہ اپنے رسولوں ؑ کو جس پر چاہتا ہے۔ اور اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور ان کا جو مال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ہاتھ لگایا ہے جس پر نہ تو تم نے اپنے گھوڑے دوڑائے ہیں اور نہ اونٹ بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو جس پر چاہے غالب کر دیتا ہے[1] ، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے.

حواشی

[1] بنو نضیر کا یہ علاقہ، جو مسلمانوں کے قبضے میں آیا، مدینے سے تین چار میل کے فاصلے پر تھا، یعنی مسلمانوں کو اس کے لیے لمبا سفر کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ یعنی اس میں مسلمانوں کو اونٹ اور گھوڑے دوڑانے نہیں پڑے۔ اسی طرح لڑنے کی بھی نوبت نہیں آئی اور صلح کے ذریعے سے یہ علاقہ فتح ہوگیا، یعنی اللہ نے اپنے رسول (صلى الله عليه وسلم) کو بغیر لڑے ان پر غالب فرما دیا۔ اس لیے یہاں سے حاصل ہونے والے مال کو فَيْء قرار دیا گیا، جس کا حکم غنیمت سے مختلف ہے۔ گویا وہ مال فَيْءٌ ہے، جو دشمن بغیر لڑے چھوڑ کر بھاگ جائے یا صلح کے ذریعے سے حاصل ہو۔ اور جو مال باقاعدہ لڑائی اور غلبہ حاصل کرنے کے بعد ملے، وہ غنیمت ہے۔