سورہ Al-Hashr — آیت 10

حشر · 59:10 · 10/24

وَٱلَّذِينَ جَآءُو مِنۢ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا ٱغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَٰنِنَا ٱلَّذِينَ سَبَقُونَا بِٱلْإِيمَـٰنِ وَلَا تَجْعَلْ فِى قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ رَبَّنَآ إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ

Wallatheena jaoo minbaAAdihim yaqooloona rabbana ighfir lana wali-ikhwaninaallatheena sabaqoona bil-eemani walatajAAal fee quloobina ghillan lillatheena amanoorabbana innaka raoofun raheem

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور (ان کے لئے بھی) جو ان (مہاجرین) کے بعد آئے (اور) دعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں گناہ معاف فرما اور مومنوں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (وحسد) نہ پیدا ہونے دے۔ اے ہمارے پروردگار تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے

محمد جوناگڑھی

اور (ان کے لیے) جو ان کے بعد آئیں جو کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان ﻻچکے ہیں اور ایمان داروں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (اور دشمنی) نہ ڈال، اے ہمارے رب بیشک تو شفقت ومہربانی کرنے واﻻ ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

(اور وہ اُن لوگوں کے لیے بھی ہے) جو اِن اَگلوں کے بعد آئے ہیں، جو کہتے ہیں کہ”اے ہمارے رب ، ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سےپہلے ایمان لائے ہیں اورہمارے دلوں میں اہلِ ایمان کے لیےکوئی بغض نہ رکھ، اے ہمارے رب تُو بڑا مہربان اور رحیم ہے“۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور وہ لوگ جو ان کے بعد آئے (مالِ فے پر ان کا بھی حق ہے) وہ کہتے ہیں : اے ہمارے ربّ ! تو بخش دے ہمیں بھی اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ایمان میں ہم سے سبقت لے گئے اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی کدورت نہ پیدا ہونے دے اے ہمارے رب بیشک تو نہایت شفیق اور رحم فرمانے والا ہے۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور (ان کے لیے) جو ان کے بعد آئیں جو کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان ﻻچکے ہیں اور ایمان داروں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (اور دشمنی) نہ ڈال[1] ، اے ہمارے رب بیشک تو شفقت ومہربانی کرنے واﻻ ہے.

حواشی

[1] یہ مال فیء کے مستحقین کی تیسری قسم ہے، یعنی صحابہ (رضي الله عنهم) کے بعد آنے والے اور صحابہ کے نقش قدم پر چلنے والے۔ اس میں تابعین اور تبع تابعین اور قیامت تک ہونے والے اہل ایمان وتقویٰ آگئے۔ لیکن شرط یہی ہے کہ وہ انصار ومہاجرین کو مومن ماننے اور ان کے حق میں دعائے مغفرت کرنے والے ہوں نہ کہ ان کے ایمان میں شک کرنے اور ان پر سب وشتم کرنے اور ان کے خلاف اپنے دلوں میں بغض وعناد رکھنے والے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے اس آیت سے استنباط کرتے ہوئے یہی بات ارشاد فرمائی ہے «إِنَّ الرَّافِضِيَّ الَّذِي يَسُبُّ الصَّحَابَةَ لَيْسَ لَهُ فِي مَالِ الْفَيْءِ نَصِيبٌ لِعَدَمِ اتِّصَافِهِ بِمَا مَدَحَ اللهُ بِهِ هَؤُلاءِ فِي قُلُوبِهِمْ» ”رافضی کو جو صحابہ کرام (رضي الله عنهم) پر سب وشتم کرتے ہیں مال فیء سے حصہ نہیں ملے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام (رضي الله عنهم) کی مدح کی ہے اور رافضی ان کی مذمت کرتے ہیں“۔ (ابن کثیر) اور حضرت عائشہ (رضی الله عنها) فرماتی ہیں۔ «أُمِرْتُمْ بِالاسْتِغْفَارِ لأَصْحَابِ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَبْتُمُوهُمْ! سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ يَقُولُ : ”لا تَذْهَبُ هَذِهِ الأمَّةُ حَتَّى يَلْعَنَ آخِرُهَا أَوَّلَهَا .... »(رواه البغوي) ”تم لوگوں کو اصحاب محمد (صلى الله عليه وسلم) کے لیے استغفار کا حکم دیا گیا۔ مگر تم نے ان پر لعن طعن کی۔ میں نے تمہارے نبی کو فرماتے ہوئے سنا کہ یہ امت اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک کہ اس کے آخرین اولین پر لعنت نہ کریں“۔ (حوالۂ مذکور)