سورہ Al-Furqan — آیت 70

صحیح اور غلط میں فرق کرنے والی کتاب · 25:70 · 70/77

إِلَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَـٰلِحًا فَأُو۟لَـٰٓئِكَ يُبَدِّلُ ٱللَّهُ سَيِّـَٔاتِهِمْ حَسَنَـٰتٍ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا

Illa man taba waamanawaAAamila AAamalan salihan faola-ikayubaddilu Allahu sayyi-atihim hasanatinwakana Allahu ghafooran raheema

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھے کام کئے تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو خدا نیکیوں سے بدل دے گا۔ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

محمد جوناگڑھی

سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان ﻻئیں اور نیک کام کریں، ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے، اللہ بخشنے واﻻ مہربانی کرنے واﻻ ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اِلّا یہ کہ کوئی (ان گناہوں کے بعد)توبہ کر چکا ہو اور ایمان لا کر عملِ صالح کرنے لگا ہو۔ ایسے لوگوں کی بُرائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور وہ بڑا غفور و رحیم ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

سوائے اس کے جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیے تو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے اور اللہ غفور ہے رحیم ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان ﻻئیں اور نیک کام کریں[1] ، ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے[2]، اللہ بخشنے واﻻ مہربانی کرنے واﻻ ہے.

حواشی

[1] اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں خالص توبہ سے ہر گناہ معاف ہوسکتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی بڑا ہو۔ اور سورۂ نساء کی آیت 93 میں جو مومن کے قتل کی سزا جہنم بتلائی گئی ہے، تو وہ اس صورت پر محمول ہوگی، جب قاتل نے توبہ نہ کی ہو اور بغیر توبہ کیے ہی فوت ہوگیا ہو۔ ورنہ حدیث میں آتا ہے کہ سو آدمی کے قاتل نےبھی خالص توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف فرمادیا۔ (صحيح مسلم، كتاب التوبة)۔ [2] اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا حال تبدیل فرمادیتا ہے، اسلام قبول کرنے سے پہلے وہ برائیاں کرتا تھا، اب نیکیاں کرتا ہے، پہلے شرک کرتا تھا، اب صرف الہٰ واحد کی عبادت کرتا ہے، پہلےکافروں کےساتھ مل کرمسلمانوں سے لڑتاتھا، اب مسلمانوں کی طرف سے کافروں سے لڑتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ دوسرے معنی ہیں کہ اس کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیا جاتا ہے۔ اس کی تائید حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”میں اس شخص کو جانتا ہوں، جو سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا اور سب سے آخر میں جہنم سے نکلنے والا ہوگا۔ یہ وہ آدمی ہوگا کہ قیامت کےدن اس پر اس کے چھوٹے چھوٹے گناہ پیش کیے جائیں گے، بڑے گناہ ایک طرف رکھ دیئے جائیں گے۔ اس کو کہا جائے گا کہ تو نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں کام کیا تھا؟ وہ اثبات میں جواب دے گا، انکار کی اسے طاقت نہ ہوگی، علاوہ ازیں اس بات سے بھی ڈر رہا ہوگا کہ ابھی تو بڑے گناہ بھی پیش کیے جائیں گے۔ کہ اتنے میں اس سے کہا جائے گا کہ جا، تیرے لیے ہر برائی کے بدلے ایک نیکی ہے۔ اللہ کی یہ مہربانی دیکھ کر وہ کہے گا، کہ ابھی تو میرے بہت سےاعمال ایسے ہیں کہ میں انہیں یہاں نہیں دیکھ رہا، یہ بیان کرکے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کےدانت ظاہر ہوگئے“ (صحيح مسلم كتاب الإيمان ، باب أدنى أهل الجنة منزلة فيها)۔