سورہ Al-Fath — آیت 6

فتح · 48:6 · 6/29

وَيُعَذِّبَ ٱلْمُنَـٰفِقِينَ وَٱلْمُنَـٰفِقَـٰتِ وَٱلْمُشْرِكِينَ وَٱلْمُشْرِكَـٰتِ ٱلظَّآنِّينَ بِٱللَّهِ ظَنَّ ٱلسَّوْءِ ۚ عَلَيْهِمْ دَآئِرَةُ ٱلسَّوْءِ ۖ وَغَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلَعَنَهُمْ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ ۖ وَسَآءَتْ مَصِيرًا

WayuAAaththiba almunafiqeena walmunafiqatiwalmushrikeena walmushrikati aththanneenabillahi thanna assaw-iAAalayhim da-iratu assaw-i waghadiba AllahuAAalayhim walaAAanahum waaAAadda lahum jahannama wasaat maseera

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور (اس لئے کہ) منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو خدا کے حق میں برے برے خیال رکھتے ہیں عذاب دے۔ ان ہی پر برے حادثے واقع ہوں۔ اور خدا ان پر غصے ہوا اور ان پر لعنت کی اور ان کے لئے دوزخ تیار کی۔ اور وہ بری جگہ ہے

محمد جوناگڑھی

اور تاکہ ان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرکہ عورتوں کو عذاب دے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانیاں رکھنے والے ہیں، (دراصل) انہیں پر برائی کا پھیرا ہے، اللہ ان پر ناراض ہوا اور انہیں لعنت کی اور ان کے لئے دوزخ تیار کی اور وه (بہت) بری لوٹنے کی جگہ ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور ان منافق مردوں اور عورتوں اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے جو اللہ کے متعلق بُرے گمان رکھتے ہیں۔ بُرائی  کے پھیر  میں وہ خودہی آگئے، اللہ کا غضب ان پر ہوا اور اس نے ان پر لعنت کی اور ان کے لیے جہنم مہیّا کر دی جو بہت ہی بُرا ٹھکانا ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور (تاکہ) اللہ سزا دے منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو اللہ کے بارے میں بہت ُ برے گمان رکھنے والے ہیں انہی پر مسلط ہے برائی کا دائرہ۔ اور اللہ ان پر غضبناک ہوا ہے اور اس نے ان پر لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے۔ اور وہ بہت بری جگہ ہے لوٹنے کی۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور تاکہ ان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرکہ عورتوں کو عذاب دے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانیاں رکھنے والے ہیں[1] ، (دراصل) انہیں پر برائی کا پھیرا ہے[2]، اللہ ان پر ناراض ہوا اور انہیں لعنت کی اور ان کے لئے دوزخ تیار کی اور وه (بہت) بری لوٹنے کی جگہ ہے.

حواشی

[1] یعنی اللہ کو اس کے حکموں پر متہم کرتے ہیں اور رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم)اور صحابہ کرام (رضي الله عنهم) کے بارے میں گمان رکھتے ہیں کہ یہ مغلوب یا مقتول ہو جائیں گے اور دین اسلام کا خاتمہ ہو جائے گا۔ (ابن کثیر)۔ [2] یعنی یہ جس گردش، عذاب یا ہلاکت کے مسلمانوں کے لئے منتظر ہیں، وہ تو ان ہی کا مقدر بننے والی ہے۔