سورہ Al-Baqarah — آیت 85
گائے · 2:85 · 85/286
ثُمَّ أَنتُمْ هَـٰٓؤُلَآءِ تَقْتُلُونَ أَنفُسَكُمْ وَتُخْرِجُونَ فَرِيقًا مِّنكُم مِّن دِيَـٰرِهِمْ تَظَـٰهَرُونَ عَلَيْهِم بِٱلْإِثْمِ وَٱلْعُدْوَٰنِ وَإِن يَأْتُوكُمْ أُسَـٰرَىٰ تُفَـٰدُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْرَاجُهُمْ ۚ أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ ٱلْكِتَـٰبِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ۚ فَمَا جَزَآءُ مَن يَفْعَلُ ذَٰلِكَ مِنكُمْ إِلَّا خِزْىٌ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ وَيَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ يُرَدُّونَ إِلَىٰٓ أَشَدِّ ٱلْعَذَابِ ۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَـٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
Thumma antum haola-itaqtuloona anfusakum watukhrijoona fareeqan minkum min diyarihimtathaharoona AAalayhim bil-ithmi walAAudwaniwa-in ya'tookum osara tufadoohum wahuwa muharramunAAalaykum ikhrajuhum afatu'minoona bibaAAdi alkitabiwatakfuroona bibaAAdin fama jazao manyafAAalu thalika minkum illa khizyun fee alhayatiaddunya wayawma alqiyamati yuraddoona ilaashaddi alAAathabi wama Allahu bighafilinAAamma taAAmaloon
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
پھر تم وہی ہو کہ اپنوں کو قتل بھی کر دیتے ہو اور اپنے میں سے بعض لوگوں پر گناہ اور ظلم سے چڑھائی کرکے انہیں وطن سے نکال بھی دیتے ہو، اور اگر وہ تمہارے پاس قید ہو کر آئیں تو بدلہ دے کر ان کو چھڑا بھی لیتے ہو، حالانکہ ان کا نکال دینا ہی تم کو حرام تھا۔ (یہ) کیا (بات ہے کہ) تم کتابِ (خدا) کے بعض احکام کو تو مانتے ہو اور بعض سے انکار کئے دیتے ہو، تو جو تم میں سے ایسی حرکت کریں، ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ دنیا کی زندگی میں تو رسوائی ہو اور قیامت کے دن سخت سے سخت عذاب میں ڈال دیئے جائیں اور جو کام تم کرتے ہو، خدا ان سے غافل نہیں
محمد جوناگڑھی
لیکن پھر بھی تم نے آپس میں قتل کیا اورآپس کے ایک فرقے کو جلا وطن بھی کیا اور گناه اور زیادتی کے کاموں میں ان کے خلاف دوسرے کی طرفداری کی، ہاں جب وه قیدی ہو کر تمہارے پاس آئے تو تم نے ان کے فدیے دیئے، لیکن ان کا نکالنا جو تم پر حرام تھا (اس کا کچھ خیال نہ کیا) کیا بعض احکام پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو؟ تم میں سے جو بھی ایسا کرے، اس کی سزا اس کے سوا کیا ہو کہ دنیا میں رسوائی اور قیامت کے دن سخت عذاب کی مار، اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے بےخبر نہیں
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
مگر آج وہی تم ہو کہ اپنےبھائی بندوں کو قتل کرتے ہو، اپنی برادری کے کچھ لوگوں کو بے خانماں کر دیتے ہو، ظلم وزیادتی کے ساتھ ان کے خلاف جتھے بندیاں کرتے ہو، اور جب وہ لڑائی میں پِٹے ہوئے تمہارے پاس آتے ہیں ، تو ان کی رہائی کے لیے فدیہ کالیں دین کرتے ہو، حالانکہ انہیں ان کے گھروں سے نکالنا ہی سرے سے تم پر حرام تھا، تو کیا تم کتاب کےایک حصّے پر ایمان لاتے ہو اوردُوسرے حصّے کے ساتھ کفر کرتے ہو؟ پھر تم میں سے جو لوگ ایسا کریں ، ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہےکہ دنیا کی زندگی میں ذلیل و خوار ہو کر رہیں اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف پھیر دیے جائیں ؟ اللہ ان حرکات سے بے خبر نہیں ہے، جو تم کر رہے ہو
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
پھر تم ہی وہ لوگ ہو کہ اپنے ہی لوگوں کو قتل بھی کرتے ہو اور اپنے ہی لوگوں میں سے کچھ کو ان کے گھروں سے نکال دیتے ہو ان پر چڑھائی کرتے ہو گناہ اور ظلم و زیادتی کے ساتھ اور اگر وہ قیدی بن کر تمہارے پاس آئیں تو تم فدیہ دے کر انہیں چھڑاتے ہو حالانکہ ان کا نکال دیناہی تم پر حرام کیا گیا تھا تو کیا تم کتاب کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک کو نہیں مانتے ؟ تو نہیں ہے کوئی سزا اس کی جو یہ حرکت کرے تم میں سے سوائے ذلتّ و رسوائی کے دنیا کی زندگی میں۔ اور قیامت کے روز وہ لوٹا دیے جائیں گے شدید ترین عذاب کی طرف۔ اور اللہ تعالیٰ غافل نہیں ہے اس سے جو تم کر رہے ہو۔