سورہ Al-Baqarah — آیت 60
گائے · 2:60 · 60/286
۞ وَإِذِ ٱسْتَسْقَىٰ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦ فَقُلْنَا ٱضْرِب بِّعَصَاكَ ٱلْحَجَرَ ۖ فَٱنفَجَرَتْ مِنْهُ ٱثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا ۖ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ ۖ كُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ مِن رِّزْقِ ٱللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ مُفْسِدِينَ
Wa-ithi istasqa moosaliqawmihi faqulna idrib biAAasaka alhajarafanfajarat minhu ithnata AAashrata AAaynan qadAAalima kullu onasin mashrabahum kuloo washraboomin rizqi Allahi wala taAAthaw fee al-ardimufsideen
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے (خدا سے) پانی مانگا تو ہم نے کہا کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مارو۔ (انہوں نے لاٹھی ماری) تو پھر اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، اور تمام لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کر (کے پانی پی) لیا۔ (ہم نے حکم دیا کہ) خدا کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی کھاؤ اور پیو، مگر زمین میں فساد نہ کرتے پھرنا
محمد جوناگڑھی
اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لئے پانی مانگا تو ہم نے کہا کہ اپنی ﻻٹھی پتھر پر مارو، جس سے باره چشمے پھوٹ نکلے اور ہر گروه نے اپنا چشمہ پہچان لیا (اور ہم نے کہہ دیا کہ) اللہ تعالیٰ کا رزق کھاؤ پیو اورزمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
یاد کرو ، جب موسیٰ ؑ نے اپنی قوم کے لیے پانی کی دعا کی تو ہم نے کہاکہ فلاں چٹان پر اپنا عصا مارو۔چنانچہ اُس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلےاور ہر قبیلے نے جان لیاکہ کون سی جگہ اُس کے پانی لینے کی ہے۔اُس وقت یہ ہدایت کر دی گئی تھی کہ اللہ کا دیا ہُوا رزق کھاوٴ پیو،اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور جب پانی مانگا موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے تو ہم نے کہا ضرب لگاؤ اپنے عصا سے چٹان پر تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ بہے ہر قبیلے نے اپنا گھاٹ جان لیا (اور معینّ کرلیا) (گویا ان سے یہ کہہ دیا گیا کہ) کھاؤ اور پیو اللہ کے رزق میں سے اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو۔