سورہ Al-Baqarah — آیت 57

گائے · 2:57 · 57/286

وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ ٱلْغَمَامَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْكُمُ ٱلْمَنَّ وَٱلسَّلْوَىٰ ۖ كُلُوا۟ مِن طَيِّبَـٰتِ مَا رَزَقْنَـٰكُمْ ۖ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَـٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

Wathallalna AAalaykumualghamama waanzalna AAalaykumu almanna wassalwakuloo min tayyibati ma razaqnakum wamathalamoona walakin kanooanfusahum yathlimoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور بادل کا تم پر سایہ کئے رکھا اور (تمہارے لیے) من و سلویٰ اتارتے رہے کہ جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں، ان کو کھاؤ (پیو) مگر تمہارے بزرگوں نے ان نعمتوں کی کچھ قدر نہ جانی (اور) وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑتے تھے بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے تھے

محمد جوناگڑھی

اور ہم نے تم پر بادل کا سایہ کیا اور تم پر من و سلویٰ اتارا (اور کہہ دیا) کہ ہماری دی ہوئی پاکیزه چیزیں کھاؤ، اور انہوں نے ہم پر ﻇلم نہیں کیا، البتہ وه خود اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے تھے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

ہم نے تم پر اکابر کا سایہ کیا ، من وسلویٰ کی غذا تمہارے لیے فراہم کی اور تم سے کہا کہ جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں، اُنھیں کھاوٴ، مگر تمہارے اسلاف نے جو کچھ کیا ،وہ ہم پر ظلم نہ تھا، بلکہ انہوں نے آپ اپنے ہی اُوپر ظلم کیا

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور ہم نے تم پر ابر کا سایہ کیا اور اتارا تم پر مَنّ اور سلویٰ۔ اور انہوں نے ہمارا کچھ نقصان نہ کیا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم ڈھاتے رہے۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور ہم نے تم پر بادل کا سایہ کیا اور تم پر من و سلویٰ اتارا[1] (اور کہہ دیا) کہ ہماری دی ہوئی پاکیزه چیزیں کھاؤ، اور انہوں نے ہم پر ﻇلم نہیں کیا، البتہ وه خود اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے تھے۔

حواشی

[1] اکثر مفسرین کے نزدیک یہ مصر اور شام کے درمیان میدان تیہ کا واقعہ ہے۔ جب انہوں نے بحکم الٰہی عمالقہ کی بستی میں داخل ہونے سے انکار کردیا اور بطور سزا بنو اسرائیل چالیس سال تک تیہ کے میدان میں پڑے رہے۔ بعض کے نزدیک یہ تخصیص صحیح نہیں۔ صحرائے سینا میں اترنے کے بعد جب سب سے پہلے پانی اور کھانے کا مسئلہ درپیش آیا تو اسی وقت یہ انتظام کیا گیا۔ - مَنٌّ، بعض کے نزدیک ترنجبین ہے، یا اوس جو درخت یا پتھر پر گرتی، شہد کی طرح میٹھی ہوتی اور خشک ہو کر گوند کی طرح ہوجاتی۔ بعض کے نزدیک شہد یا میٹھا پانی ہے۔ بخاری ومسلم وغیرہ میں حدیث ہے کہ ”کھنبی من کی اس قسم سے ہے جو حضرت موسیٰ (عليه السلام) پر نازل ہوئی“ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل کو وہ کھانا بلا دقت بہم پہنچ جاتا تھا، اسی طرح کھنبی بغیر کسی کے بونے کے پیدا ہوجاتی ہے (تفسیر احسن التفاسیر) سَلْوَى بٹیر یا چڑیا کی طرح کا ایک پرندہ تھا جسے ذبح کرکے کھا لیتے (فتح القدیر)