سورہ Al-Baqarah — آیت 54
گائے · 2:54 · 54/286
وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦ يَـٰقَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنفُسَكُم بِٱتِّخَاذِكُمُ ٱلْعِجْلَ فَتُوبُوٓا۟ إِلَىٰ بَارِئِكُمْ فَٱقْتُلُوٓا۟ أَنفُسَكُمْ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ عِندَ بَارِئِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ
Wa-ith qala moosaliqawmihi ya qawmi innakum thalamtumanfusakum bittikhathikumu alAAijla fatooboo ilabari-ikum faqtuloo anfusakum thalikumkhayrun lakum AAinda bari-ikum fataba AAalaykuminnahu huwa attawwabu arraheem
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ بھائیو، تم نے بچھڑے کو (معبود) ٹھہرانے میں (بڑا) ظلم کیا ہے، تو اپنے پیدا کرنے والے کے آگے توبہ کرو اور اپنے تئیں ہلاک کر ڈالو۔ تمہارے خالق کے نزدیک تمہارے حق میں یہی بہتر ہے۔ پھر اس نے تمہارا قصور معاف کر دیا۔ وہ بے شک معاف کرنے والا (اور) صاحبِ رحم ہے
محمد جوناگڑھی
جب (حضرت موسیٰ) ﴿علیہ السلام﴾ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم! بچھڑے کو معبود بنا کر تم نے اپنی جانوں پر ﻇلم کیا ہے، اب تم اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرو، اپنے کو آپس میں قتل کرو، تمہاری بہتری اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسی میں ہے، تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی، وه توبہ قبول کرنے واﻻ اور رحم وکرم کرنے واﻻ ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
یاد کرو جب موسیٰ ؑ (یہ نعمت لیے ہوئے پلٹا، تو اُس ) نے اپنی قوم سے کہا کہ ”لوگو، تم نے بچھڑے کو معبُود بناکر اپنے اُوپر سخت ظلم کیا ہے ،لہٰذا تم لوگ اپنے خالق کے حضو ر توبہ کرو اور اپنی جانوں کو ہلاک کرو ، اسی میں تمہارے خالِق کے نزدیک تمہاری بہتری ہے۔“ اُس وقت تمہارے خالِق نے تمہاری توبہ قبول کر لی کہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے اور رحم فرمانے والا ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور یاد کرو جبکہ کہا تھا موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے اے میری قوم کے لوگو ! یقیناً تم نے اپنے اوپر بڑا ظلم کیا ہے بچھڑے کو معبود بنا کر پس اب توبہ کرو اپنے پیدا کرنے والے کی جناب میں تو قتل کرو اپنے آپ کو۔ یہی تمہارے لیے تمہارے رب کے نزدیک بہتر بات ہے۔ تو (اللہ نے) تمہاری توبہ قبول کرلی۔ یقیناً وہ تو ہے ہی توبہ کا بہت قبول فرمانے والا بہت رحم فرمانے والا۔