سورہ Al-Baqarah — آیت 37
گائے · 2:37 · 37/286
فَتَلَقَّىٰٓ ءَادَمُ مِن رَّبِّهِۦ كَلِمَـٰتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ
Fatalaqqa adamu min rabbihikalimatin fataba AAalayhi innahu huwa attawwabuarraheem
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
پھر آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے (اور معافی مانگی) تو اس نے ان کا قصور معاف کر دیا بے شک وہ معاف کرنے والا (اور) صاحبِ رحم ہے
محمد جوناگڑھی
آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے چند باتیں سیکھ لیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، بےشک وہی توبہ قبول کرنے واﻻ اور رحم کرنے واﻻ ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اس وقت آدم نے اپنے ربّ سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی ،جس کو اس کے ربّ نے قبول کرلیا ،کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے چند کلمات تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کرلی۔ یقیناً وہی تو ہے توبہ کا بہت قبول کرنے والا بہت رحم فرمانے والا۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے چند باتیں سیکھ لیں[1] اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، بےشک وہی توبہ قبول کرنے واﻻ اور رحم کرنے واﻻ ہے۔
حواشی
[1] حضرت آدم (عليه السلام) جب پشیمانی میں ڈوبے دنیا میں تشریف لائے تو توبہ واستغفار میں مصروف ہوگئے۔ اس موقعے پر بھی اللہ تعالیٰ نے رہنمائی ودست گیری فرمائی اور وہ کلمات معافی سکھا دیئے جو (الاعراف) میں بیان کئے گئے ہیں «رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا» الآية بعض حضرات یہاں ایک موضوع روایت کا سہارا لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت آدم نے عرش الٰہی پر ”لا إِلهَ إِلا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ“ لکھا ہوا دیکھا اور محمد رسول اللہ کے وسیلے سے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا۔ یہ روایت بےسند ہے اور قرآن کے بھی معارض ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے طریقے کے بھی خلاف ہے۔ تمام انبیا (عليهم السلام) نے ہمیشہ براہ راست اللہ سے دعائیں کی ہیں، کسی نبی، ولی، بزرگ کا واسطہ اور وسیلہ نہیں پکڑا، اس لئے نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) سمیت تمام انبیا کا طریقہ دعا یہی رہا ہے کہ بغیر کسی واسطے اور وسیلے کے اللہ کی بارگاہ میں دعا کی جائے۔