سورہ Al-Baqarah — آیت 35

گائے · 2:35 · 35/286

وَقُلْنَا يَـٰٓـَٔادَمُ ٱسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ ٱلْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَـٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ

Waqulna ya adamu oskunanta wazawjuka aljannata wakula minha raghadan haythushi'tuma wala taqraba hathihi ashshajaratafatakoona mina aththalimeen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور ہم نے کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چاہو بے روک ٹوک کھاؤ (پیو) لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے

محمد جوناگڑھی

اور ہم نے کہہ دیا کہ اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور جہاں کہیں سے چاہو بافراغت کھاؤ پیو، لیکن اس درخت کے قریب بھی نہ جانا ورنہ ﻇالم ہوجاؤ گے

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

پھر ہم نے آدم سے کہا کہ”تم اور تمہاری بیوی، دونوں جنت میں رہو اور یہاں بفراغت جو چاہو کھاوٴ، مگر اس درخت کا رُخ نہ کرنا ،ورنہ ظالموں میں شمارہوگے۔“

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور ہم نے کہا اے آدم ! رہو تم اور تمہاری بیوی جنت میں اور کھاؤ اس میں سے بافراغت جہاں سے چاہو۔ مگر اس درخت کے قریب مت جانا۔ ورنہ تم ظالموں میں سے ہوجاؤ گے۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور ہم نے کہہ دیا کہ اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو[1] اور جہاں کہیں سے چاہو بافراغت کھاؤ پیو، لیکن اس درخت کے قریب بھی نہ جانا[2] ورنہ ﻇالم ہوجاؤ گے

حواشی

[1] یہ حضرت آدم (عليه السلام) کی تیسری بڑی فضیلت ہے جو جنت کو ان کا مسکن بنا کر عطا کی گئی۔ [2] یہ درخت کس چیز کا تھا؟ اس کی بابت قرآن وحدیث میں کوئی صراحت نہیں ہے۔ اس کو گندم کا درخت مشہور کردیا گیا ہے جو بےاصل بات ہے، ہمیں اس کا نام معلوم کرنے کی ضرورت ہے، نہ اس کا کوئی فائدہ ہی ہے۔