سورہ Al-Baqarah — آیت 27

گائے · 2:27 · 27/286

ٱلَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مِيثَـٰقِهِۦ وَيَقْطَعُونَ مَآ أَمَرَ ٱللَّهُ بِهِۦٓ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَـٰسِرُونَ

Allatheena yanqudoona AAahdaAllahi min baAAdi meethaqihi wayaqtaAAoona maamara Allahu bihi an yoosala wayufsidoona fee al-ardiola-ika humu alkhasiroon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

جو خدا کے اقرار کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جس چیز (یعنی رشتہٴ قرابت) کے جوڑے رکھنے کا الله نے حکم دیا ہے اس کو قطع کئے ڈالتے ہیں اور زمین میں خرابی کرتے ہیں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

محمد جوناگڑھی

جو لوگ اللہ تعالیٰ کے مضبوط عہد کو توڑ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے، انہیں کاٹتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ دیتے ہیں،اللہ نے جسے جوڑنے کا حکم دیا ہےاُسے کاٹتے ہیں،اور زمین میں فساد بر پا کرتے ہیں۔حقیقت میں یہ لوگ نقصان اُٹھانے والے ہیں

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

جو توڑ دیتے ہیں اللہ کے (ساتھ کیے ہوئے) عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد۔ اور کاٹتے ہیں اس چیز کو جسے اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

جو لوگ اللہ تعالیٰ کے مضبوط عہد کو[1] توڑ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے، انہیں کاٹتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔[2]

حواشی

[1] مفسرین نے عَهْدٌ کے مختلف مفہوم بیان کئے ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کی وہ وصیت جو اس نے اپنے اوامر بجا لانے اور نواہی سے باز رکھنے کے لئے انبیاء (عليهم السلام) کے ذریعے سے مخلوق کو کی۔ ۔ وہ عہد جو اہل کتاب سے تورات میں لیا گیا کہ نبی آخر الزمان (صلى الله عليه وسلم) کے آجانے کے بعد تمہارے لئے ان کی تصدیق کرنا اور ان کی نبوت پر ایمان لانا ضروری ہوگا۔ وہ عہدالست جو صلب آدم سے نکالنے کے بعد تمام ذریت آدم سے لیا گیا، جس کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہے: «وَإِذۡ أَخَذَ رَبُّكَ مِنۢ بَنِيٓ ءَادَمَ مِن ظُهُورِهِمۡ» (الأعراف: 172) نقض عہد کا مطلب عہد کی پروا نہ کرنا ہے (ابن کثیر) [2] ظاہر بات ہے کہ نقصان اللہ کی نافرمانی کرنے والوں کو ہی ہوگا، اللہ کا یا اس کے پیغمبروں اور داعیوں کا کچھ نہ بگڑے گا۔