سورہ Al-Baqarah — آیت 269
گائے · 2:269 · 269/286
يُؤْتِى ٱلْحِكْمَةَ مَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُؤْتَ ٱلْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِىَ خَيْرًا كَثِيرًا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّآ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَـٰبِ
Yu'tee alhikmata man yashaowaman yu'ta alhikmata faqad ootiya khayran katheeran wamayaththakkaru illa oloo al-albab
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
وہ جس کو چاہتا ہے دانائی بخشتا ہے۔ اور جس کو دانائی ملی بےشک اس کو بڑی نعمت ملی۔ اور نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہیں
محمد جوناگڑھی
وه جسے چاہے حکمت اور دانائی دیتا ہے اور جو شخص حکمت اور سمجھ دیا جائے وه بہت ساری بھلائی دیا گیا اور نصیحت صرف عقلمند ہی حاصل کرتے ہیں۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے، اور جس کو حکمت ملی ، اُسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی۔ اِن باتوں سے صرف وہی لوگ سبق لیتے ہیں ،جو دانشمند ہیں
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
وہ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے اور جسے حکمت دے دی گئی اسے تو خیر کثیر عطا ہوگیا اور نہیں نصیحت حاصل کرسکتے مگر وہی لوگ جو ہوش مند ہیں
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
وه جسے چاہے حکمت اور دانائی دیتا ہے اور جو شخص حکمت اور سمجھ دیا جائے وه بہت ساری بھلائی دیا گیا[1] اور نصیحت صرف عقلمند ہی حاصل کرتے ہیں۔
حواشی
[1] حِكْمَةٌ سے بعض کے نزدیک، عقل وفہم، علم اور بعض کے نزدیک اصابت رائے، قرآن کے ناسخ و منسوخ کا علم وفہم، قوت فیصلہ اور بعض کے نزدیک صرف سنت یا کتاب وسنت کا علم وفہم ہے یا سارے ہی مفہوم اس کے مصداق میں شامل ہوسکتے ہیں۔ صحیحین وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ ”دو شخصوں پر رشک کرنا جائز ہے ایک وہ جس کو اللہ نے مال دیا اور وہ اسے راہ حق میں خرچ کرتا ہے۔ دوسرا وہ جسے اللہ نے حکمت دی جس سے وہ فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے۔“ (صحيح بخارى، كتاب العلم، باب الاغتباط في العلم والحكمة - مسلم، كتاب صلاة المسافرين، باب فضل من يقوم بالقرآن ويعلِّمه ....)