سورہ Al-Baqarah — آیت 256

گائے · 2:256 · 256/286

لَآ إِكْرَاهَ فِى ٱلدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ ٱلرُّشْدُ مِنَ ٱلْغَىِّ ۚ فَمَن يَكْفُرْ بِٱلطَّـٰغُوتِ وَيُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱسْتَمْسَكَ بِٱلْعُرْوَةِ ٱلْوُثْقَىٰ لَا ٱنفِصَامَ لَهَا ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

La ikraha fee addeeniqad tabayyana arrushdu mina alghayyi faman yakfur bittaghootiwayu'min billahi faqadi istamsaka bilAAurwatialwuthqa la infisama laha wallahusameeAAun AAaleem

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ہے ہدایت (صاف طور پر ظاہر اور) گمراہی سے الگ ہو چکی ہے تو جو شخص بتوں سے اعتقاد نہ رکھے اور خدا پر ایمان لائے اس نے ایسی مضبوط رسی ہاتھ میں پکڑ لی ہے جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں اور خدا (سب کچھ) سنتا اور (سب کچھ) جانتا ہے

محمد جوناگڑھی

دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں، ہدایت ضلالت سے روشن ہوچکی ہے، اس لئے جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبودوں کا انکار کرکے اللہ تعالیٰ پر ایمان ﻻئے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا، جو کبھی نہ ٹوٹے گا اور اللہ تعالیٰ سننے واﻻ، جاننے واﻻ ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

دین کے معاملے میں کوئی زورزبردستی نہیں ہے۔ صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے۔ اب جو کوئی طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آیا، اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا، جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ( جس کا سہارا اس نے لیا ہے) سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

دین میں کوئی جبر نہیں ہے ہدایت گمراہی سے واضح ہوچکی ہے تو جو کوئی بھی طاغوت کا انکار کرے اور پھر اللہ پر ایمان لائے تو اس نے بہت مضبوط حلقہ تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے