سورہ Al-Baqarah — آیت 253
گائے · 2:253 · 253/286
۞ تِلْكَ ٱلرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۘ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ ٱللَّهُ ۖ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَـٰتٍ ۚ وَءَاتَيْنَا عِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ ٱلْبَيِّنَـٰتِ وَأَيَّدْنَـٰهُ بِرُوحِ ٱلْقُدُسِ ۗ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا ٱقْتَتَلَ ٱلَّذِينَ مِنۢ بَعْدِهِم مِّنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ ٱلْبَيِّنَـٰتُ وَلَـٰكِنِ ٱخْتَلَفُوا۟ فَمِنْهُم مَّنْ ءَامَنَ وَمِنْهُم مَّن كَفَرَ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا ٱقْتَتَلُوا۟ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ
Tilka arrusulu faddalnabaAAdahum AAala baAAdin minhum man kallamaAllahu warafaAAa baAAdahum darajatin waataynaAAeesa ibna maryama albayyinati waayyadnahubiroohi alqudusi walaw shaa Allahu maiqtatala allatheena min baAAdihim min baAAdi ma jaat-humualbayyinatu walakini ikhtalafoo faminhum man amanawaminhum man kafara walaw shaa Allahu maiqtataloo walakinna Allaha yafAAalu mayureed
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
یہ پیغمبر (جو ہم وقتاً فوقتاً بھیجتے رہیں ہیں) ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ بعض ایسے ہیں جن سے خدا نے گفتگو فرمائی اور بعض کے (دوسرے امور میں) مرتبے بلند کئے۔ اور عیسیٰ بن مریم کو ہم نے کھلی ہوئی نشانیاں عطا کیں اور روح القدس سے ان کو مدد دی۔ اور اگر خداچاہتا تو ان سے پچھلے لوگ اپنے پاس کھلی نشانیاں آنے کے بعد آپس میں نہ لڑتے لیکن انہوں نے اختلاف کیا تو ان میں سے بعض تو ایمان لے آئے اور بعض کافر ہی رہے۔ اور اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ باہم جنگ و قتال نہ کرتے۔ لیکن خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے
محمد جوناگڑھی
یہ رسول ہیں جن میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، ان میں سے بعض وه ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے بات چیت کی ہے اور بعض کے درجے بلند کئے ہیں، اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو معجزات عطا فرمائے اور روح القدس سے ان کی تائید کی۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کے بعد والے اپنے پاس دلیلیں آجانے کے بعد ہرگز آپس میں لڑائی بھڑائی نہ کرتے، لیکن ان لوگوں نے اختلاف کیا، ان میں سے بعض تو مومن ہوئے اور بعض کافر، اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو یہ آپس میں نہ لڑتے، لیکن اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
یہ رسول (جو ہماری طرف سے انسانوں کی ہدایت پر مامور ہوئے)ہم نے ان کو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر مرتبے عطا کیے۔ ان میں کوئی ایسا تھا جس سے خدا خود ہمکلام ہوا، کسی کو اس نے دوسری حیثیتوں سے بلند درجے دیے، اور آخر میں عیسٰی ؑ ابن مریم کو روشن نشانیاں عطا کیں اور روحِ پاک سے اس کی مدد کی۔ اگر اللہ چاہتا ، تو ممکن نہ تھا کہ ان رسولوں کے بعد جو لوگ روشن نشانیاں دیکھ چکے تھے، وہ آپس میں لڑتے۔ مگر( اللہ کی مشیّت یہ نہ تھی کہ وہ لوگوں کو جبّراً اختلاف سے روکے، اس وجہ سے) انہوں نے باہم اختلاف کیا، پھر کوئی ایمان لایا اور کسی نےکفر کی راہ اختیار کی۔ ہاں اللہ چاہتا، تو وہ ہر گز نہ لڑتے، مگر اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
ان رسولوں ؑ میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ان میں سے وہ بھی تھے جن سے اللہ نے کلام فرمایا اور بعض کے درجات (کسی اور اعتبار سے) بڑھا دیے اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم ؑ کو بڑے کھلے معجزے دیے اور ان کی مدد فرمائی روح القدس (حضرت جبرائیل (ؑ) کے ساتھ اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے بعد آنے والے آپس میں نہ لڑتے جھگڑتے اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح تعلیمات آچکی تھیں لیکن انہوں نے اختلاف کیا پھر کوئی تو ان میں سے ایمان لایا اور کوئی کفر پر اڑا رہا اور اگر اللہ چاہتا تو وہ آپس میں نہ لڑتے لیکن اللہ تو کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے