سورہ Al-Baqarah — آیت 247
گائے · 2:247 · 247/286
وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ ٱللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا ۚ قَالُوٓا۟ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ ٱلْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِٱلْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ ٱلْمَالِ ۚ قَالَ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصْطَفَىٰهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُۥ بَسْطَةً فِى ٱلْعِلْمِ وَٱلْجِسْمِ ۖ وَٱللَّهُ يُؤْتِى مُلْكَهُۥ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ
Waqala lahum nabiyyuhum inna Allahaqad baAAatha lakum taloota malikan qaloo annayakoonu lahu almulku AAalayna wanahnu ahaqqubilmulki minhu walam yu'ta saAAatan mina almali qalainna Allaha istafahu AAalaykum wazadahubastatan fee alAAilmi waljismi wallahuyu'tee mulkahu man yashao wallahu wasiAAunAAaleem
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
اور پیغمبر نے ان سے (یہ بھی) کہا کہ خدا نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے۔ وہ بولے کہ اسے ہم پر بادشاہی کا حق کیونکر ہوسکتا ہےبادشاہی کے مستحق تو ہم ہیں اور اس کے پاس تو بہت سی دولت بھی نہیں۔ پیغمبر نے کہا کہ خدا نےاس کو تم پر فضیلت دی ہے اور (بادشاہی کے لئے) منتخب فرمایا ہے اس نے اسے علم بھی بہت سا بخشا ہے اور تن و توش بھی (بڑا عطا کیا ہے) اور خدا (کو اختیار ہے) جسے چاہے بادشاہی بخشے۔ وہ بڑا کشائش والا اور دانا ہے
محمد جوناگڑھی
اور انہیں ان کے نبی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو تمہارا بادشاه بنا دیا ہے تو کہنے لگے بھلا اس کی ہم پر حکومت کیسے ہوسکتی ہے؟ اس سے تو بہت زیاده حقدار بادشاہت کے ہم ہیں، اس کو تو مالی کشادگی بھی نہیں دی گئی۔ نبی نے فرمایا سنو، اللہ تعالیٰ نے اسی کو تم پر برگزیده کیا ہے اور اسے علمی اور جسمانی برتری بھی عطا فرمائی ہے بات یہ ہے کہ اللہ جسے چاہے اپنا ملک دے، اللہ تعالیٰ کشادگی واﻻ اور علم واﻻ ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اللہ نے طالوت کو تمہارے لیے بادشاہ مقرر کیا ہے۔ یہ سن کر وہ بولے: ”ہم پر بادشاہ بننےکا وہ کیسے حقدار ہو گیا؟ اس کے مقابلے میں بادشاہی کے ہم زیادہ مستحق ہیں۔ وہ تو کوئی بڑا مالدار آدمی نہیں ہے“۔ نبی نے جواب دیا:”اللہ نے تمہارے مقابلے میں اسی کو منتخب کیا ہے اور اس کو دماغ و جسمانی دونوں قسم کی اہلیتیں فراوانی کے ساتھ عطا فرمائی ہیں اور اللہ کو اختیار ہے کہ اپنا ملک جسے چاہے دے، اللہ بڑی وسعت رکھتا ہے او ر سب کچھ اس کےعلم میں ہے۔“
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور ان سے کہا ان کے نبی ؑ نے کہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ مقرر کردیا ہے انہوں نے کہا کہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اسے ہمارے اوپر بادشاہت ملے ؟ جبکہ ہم اس سے زیادہ حق دار ہیں بادشاہت کے اور اسے تو مال کی وسعت بھی نہیں دی گئی (نبی ؑ نے) کہا : (اب جو چاہو کہو) یقیناً اللہ نے اس کو چن لیا ہے تم پر اور اسے کشادگی عطا کی ہے علم اور جسم دونوں چیزوں میں اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنی بادشاہت دے دیتا ہے اور اللہ بہت سمائی والا ہے سب کچھ جاننے والا ہے