سورہ Al-Baqarah — آیت 230

گائے · 2:230 · 230/286

فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُۥ ۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ أَن يَتَرَاجَعَآ إِن ظَنَّآ أَن يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ ۗ وَتِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ

Fa-in tallaqaha falatahillu lahu min baAAdu hatta tankihazawjan ghayrahu fa-in tallaqaha fala junahaAAalayhima an yatarajaAAa in thannaan yuqeema hudooda Allahi watilka hudooduAllahi yubayyinuha liqawmin yaAAlamoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

پھر اگر شوہر (دو طلاقوں کے بعد تیسری) طلاق عورت کو دے دے تو اس کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے اس (پہلے شوہر) پر حلال نہ ہوگی۔ ہاں اگر دوسرا خاوند بھی طلاق دے دے اورعورت اور پہلا خاوند پھر ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ دونوں یقین کریں کہ خدا کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے اور یہ خدا کی حدیں ہیں ان کو وہ ان لوگوں کے لئے بیان فرماتا ہے جو دانش رکھتے ہیں

محمد جوناگڑھی

پھر اگر اس کو (تیسری بار) طلاق دے دے تو اب اس کے لئے حلال نہیں جب تک وه عورت اس کے سوا دوسرے سے نکاح نہ کرے، پھر اگر وه بھی طلاق دے دے تو ان دونوں کو میل جول کرلینے میں کوئی گناه نہیں بشرطیکہ یہ جان لیں کہ اللہ کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے، یہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں جنہیں وه جاننے والوں کے لئے بیان فرما رہا ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

پھر اگر( دوبار طلاق دینے کے بعد شوہر نے عورت کو تیسری بار)طلاق دے دی، تو وہ عورت پھر اس کے لیے حلال نہ ہو گی، اِلّا یہ کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص سے ہو اور وہ اسے طلاق دیدے۔ تب اگر پہلا شوہر اوریہ عورت دونوں یہ خیال کریں کہ حدودِ الٰہی پر قائم رہیں گے،تو ان کے لیے ایک دوسرےکی طرف رجوع کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں، جنھیں وہ ان لوگوں کی ہدایت کے لیے واضح کر رہا ہے، جو (اس کی حدوں کو توڑنے کا انجام )جانتے ہیں

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

پھر اگر وہ (تیسری مرتبہ) اسے طلاق دے دے تو وہ عورت اس کے بعد اس کے لیے جائز نہیں ہے جب تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرے پس اگر وہ اس کو طلاق دے دے تو اب کوئی گناہ نہیں ہوگا ان دونوں پر کہ وہ مراجعت کرلیں اگر ان کو یہ یقین ہو کہ وہ اللہ کی حدود کی پاسداری کرسکیں گے اور یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں جن کو وہ واضح کر رہا ہے ان لوگوں کے لیے جو علم حاصل کرنا چاہیں