سورہ Al-Baqarah — آیت 222
گائے · 2:222 · 222/286
وَيَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَٱعْتَزِلُوا۟ ٱلنِّسَآءَ فِى ٱلْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ ٱللَّهُ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلتَّوَّٰبِينَ وَيُحِبُّ ٱلْمُتَطَهِّرِينَ
Wayas-aloonaka AAani almaheediqul huwa athan faAAtaziloo annisaafee almaheedi wala taqraboohunna hattayathurna fa-itha tatahharna fa'toohunna min haythuamarakumu Allahu inna Allaha yuhibbu attawwabeenawayuhibbu almutatahhireen
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
اور تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ تو نجاست ہے۔ سو ایام حیض میں عورتوں سے کنارہ کش رہو۔ اور جب تک پاک نہ ہوجائیں ان سے مقاربت نہ کرو۔ ہاں جب پاک ہوجائیں تو جس طریق سے خدا نے ارشاد فرمایا ہے ان کے پاس جاؤ۔ کچھ شک نہیں کہ خدا توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے
محمد جوناگڑھی
آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجیئے کہ وه گندگی ہے، حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وه پاک نہ ہوجائیں ان کے قریب نہ جاؤ، ہاں جب وه پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے، اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
پوچھتے ہیں: حیض کا کیا حکم ہے؟ کہو: وہ ایک گندگی کی حالت ہے۔ اس میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ، جب تک کہ وہ پاک صاف نہ ہو جائیں۔پھر جب وہ پاک ہو جائیں، تو ان کے پاس جاؤ اس طرح جیسا کہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے۔ اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے، جو بدی سے باز رہیں اور پاکیزگی اختیار کریں
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور وہ عورتوں کی ماہواری کے بارے میں آپ ﷺ سے سوال کر رہے ہیں کہہ دیجیے وہ ایک ناپاکی بھی ہے اور ایک تکلیف کا مسئلہ بھی ہے تو حیض کی حالت میں عورتوں سے علیحدہ رہو اور ان سے مقاربت نہ کرو یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں پھر جب وہ خوب پاک ہوجائیں تو اب ان کی طرف جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے یقیناً اللہ محبت کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں سے اور محبت کرتا ہے بہت پاکبازی اختیار کرنے والوں سے