سورہ Al-Baqarah — آیت 197
گائے · 2:197 · 197/286
ٱلْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَـٰتٌ ۚ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ ٱلْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِى ٱلْحَجِّ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا۟ مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ ٱللَّهُ ۗ وَتَزَوَّدُوا۟ فَإِنَّ خَيْرَ ٱلزَّادِ ٱلتَّقْوَىٰ ۚ وَٱتَّقُونِ يَـٰٓأُو۟لِى ٱلْأَلْبَـٰبِ
Alhajju ashhurun maAAloomatunfaman farada feehinna alhajja fala rafathawala fusooqa wala jidala fee alhajjiwama tafAAaloo min khayrin yaAAlamhu Allahuwatazawwadoo fa-inna khayra azzadi attaqwawattaqooni ya olee al-albab
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
حج کے مہینے (معین ہیں جو) معلوم ہیں تو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کرلے تو حج (کے دنوں) میں نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے نہ کسی سے جھگڑے۔ اور جو نیک کام تم کرو گے وہ خدا کو معلوم ہوجائے گا اور زاد راہ (یعنی رستے کا خرچ) ساتھ لے جاؤ کیونکہ بہتر (فائدہ) زاد راہ (کا) پرہیزگاری ہے اور اے اہل عقل مجھ سے ڈرتے رہو
محمد جوناگڑھی
حج کے مہینے مقرر ہیں اس لئے جو شخص ان میں حج ﻻزم کرلے وه اپنی بیوی سے میل ملاپ کرنے، گناه کرنے اور لڑائی جھگڑے کرنے سے بچتا رہے، تم جو نیکی کرو گے اس سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے اور اپنے ساتھ سفر خرچ لے لیا کرو، سب سے بہتر توشہ اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے اور اے عقلمندو! مجھ سے ڈرتے رہا کرو۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں۔ جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیّت کرے، اُسے خبردار رہنا چاہیے کہ حج کے دوران میں اس سے کوئی شہوانی فعل ، کوئی بدعملی،کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو۔ اور جو نیک کام تم کرو گے ، وہ اللہ کے علم میں ہوگا۔ سفرِحج کے لیے زادِ راہ ساتھ لے جاوٴ۔ اور سب سے بہتر زادِراہ پرہیزگاری ہے۔ پس اے ہوشمندو ! میری نافرمانی سے پرہیزکرو۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
حج کے معلوم مہینے ہیں تو جس نے اپنے اوپر لازم کرلیا ان مہینوں میں حج کو تو (اس کو خبردار رہنا چاہیے کہ) دورانِ حج نہ تو شہوت کی کوئی بات کرنی ہے نہ فسق و فجور کی اور نہ لڑائی جھگڑے کی اور نیکی کے جو کام بھی تم کرو گے اللہ اس کو جانتا ہے اور زاد راہ ساتھ لے لیا کرو یقیناً بہترین زاد راہ تقویٰ ہے اور میرا ہی تقویٰ اختیار کرو اے ہوش مندو !