سورہ Al-Baqarah — آیت 189

گائے · 2:189 · 189/286

۞ يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْأَهِلَّةِ ۖ قُلْ هِىَ مَوَٰقِيتُ لِلنَّاسِ وَٱلْحَجِّ ۗ وَلَيْسَ ٱلْبِرُّ بِأَن تَأْتُوا۟ ٱلْبُيُوتَ مِن ظُهُورِهَا وَلَـٰكِنَّ ٱلْبِرَّ مَنِ ٱتَّقَىٰ ۗ وَأْتُوا۟ ٱلْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَٰبِهَا ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

Yas-aloonaka AAani al-ahillati qul hiya mawaqeetulinnasi walhajji walaysa albirrubi-an ta'too albuyoota min thuhooriha walakinnaalbirra mani ittaqa wa'too albuyoota min abwabihawattaqoo Allaha laAAallakum tuflihoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

(اے محمدﷺ) لوگ تم سے نئے چاند کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ گھٹتا بڑھتا کیوں ہے) کہہ دو کہ وہ لوگوں کے (کاموں کی میعادیں) اور حج کے وقت معلوم ہونے کا ذریعہ ہے اور نیکی اس بات میں نہیں کہ (احرام کی حالت میں) گھروں میں ان کے پچھواڑے کی طرف سے آؤ۔ بلکہ نیکوکار وہ ہے جو پرہیز گار ہو اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ نجات پاؤ

محمد جوناگڑھی

لوگ آپ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجیئے کہ یہ لوگوں (کی عبادت) کے وقتوں اور حج کے موسم کے لئے ہے (احرام کی حالت میں) اور گھروں کے پیچھے سے تمہارا آنا کچھ نیکی نہیں، بلکہ نیکی واﻻ وه ہے جو متقی ہو۔ اور گھروں میں تو دروازوں میں سے آیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

لوگ تم سے چاند کی گھٹتی بڑھتی صورتوں کے متعلق پوچھتے ہیں۔ کہو : یہ لوگوں کے لیے تاریخوں کی تعیین کی اور حج کی علامتیں ہیں۔ نیز ان سےکہو : یہ کوئی نیکی کا کام نہیں ہے کہ تم اپنے گھروں میں پیچھے کی طرف سے داخل ہوتے ہو۔نیکی تو اصل میں یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ناراضی سے بچے۔ لہٰذا تم اپنے گھروں میں دروازےہی سے آیا کرو۔ البتہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ شاید کہ تمھیں فلاح نصیب ہو جائے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

(اے نبی ﷺ !) یہ آپ ﷺ سے پوچھ رہے ہیں چاند کی گھٹتی بڑھتی صورتوں کے بارے میں کہہ دیجیے یہ لوگوں کے لیے اوقات کا تعینّ ہے اور حج کے لیے ہے اور یہ کوئی نیکی نہیں ہے کہ تم گھروں میں ان کی پشت کی طرف سے داخل ہو بلکہ نیکی تو اس کی ہے جس نے تقویٰ اختیار کیا اور گھروں میں داخل ہو ان کے دروازوں سے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم فلاح پاؤ