سورہ Al-Baqarah — آیت 182
گائے · 2:182 · 182/286
فَمَنْ خَافَ مِن مُّوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَآ إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
Faman khafa min moosinjanafan aw ithman faaslaha baynahum falaithma AAalayhi inna Allaha ghafoorun raheem
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے (کسی وارث کی) طرفداری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو تو اگر وہ (وصیت کو بدل کر) وارثوں میں صلح کرادے تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔ بےشک خدا بخشنے والا (اور) رحم والا ہے
محمد جوناگڑھی
ہاں جو شخص وصیت کرنے والے کی جانب داری یا گناه کی وصیت کردینے سے ڈرے پس وه ان میں آپس میں اصلاح کرادے تو اس پر گناه نہیں، اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
البتہ جس کو یہ اندیشہ ہو کہ وصیت کرنے والے نے نادانستہ یا قصداً حق تلفی کی ہے، اور پھر معاملے سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان وہ اصلاح کرے، تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے، اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
پھر جس کو اندیشہ ہو کسی وصیت کرنے والے کی طرف سے جانب داری یا حق تلفی کا اور وہ ان کے مابین صلح کرا دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے