سورہ Al-Baqarah — آیت 171

گائے · 2:171 · 171/286

وَمَثَلُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ كَمَثَلِ ٱلَّذِى يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَآءً وَنِدَآءً ۚ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْىٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ

Wamathalu allatheena kafarookamathali allathee yanAAiqu bima la yasmaAAuilla duAAaan wanidaan summun bukmunAAumyun fahum la yaAAqiloon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ سن نہ سکے۔ (یہ) بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں کہ (کچھ) سمجھ ہی نہیں سکتے

محمد جوناگڑھی

کفار کی مثال ان جانوروں کی طرح ہے جو اپنے چرواہے کی صرف پکار اور آواز ہی کو سنتے ہیں (سمجھتے نہیں) وه بہرے، گونگے اور ا ندھے ہیں، انہیں عقل نہیں۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

یہ لوگ جنھوں نے خدا کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنے سے انکار کردیا ہے ان کی حالت بالکل ایسی ہے جیسے چرواہا جانوروں کو پکارتا ہے اور وہ ہانک پکار کی صدا کے سواکچھ نہیں سنتے۔ یہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں، اندھے ہیں، اس لیے کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور ان لوگوں کی مثال جنہوں نے کفر کیا ایسی ہے جیسے کوئی شخص ایسی چیز کو پکارے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سمجھتی ہو وہ بہرے بھی ہیں گونگے بھی ہیں اندھے بھی ہیں پس وہ عقل سے کام نہیں لیتے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

کفار کی مثال ان جانوروں کی طرح ہے جو اپنے چرواہے کی صرف پکار اور آواز ہی کو سنتے ہیں (سمجھتے نہیں) وه بہرے، گونگے اور ا ندھے ہیں، انہیں عقل نہیں۔[1]

حواشی

[1] ان کافروں کی مثال جنہوں نے تقلید آبا میں اپنی عقل وفہم کو معطل کر رکھا ہے، ان جانوروں کی طرح ہے جن کو چرواہا بلاتا اور پکارتا ہے وہ جانور آواز تو سنتے ہیں، لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ انہیں کیوں بلایا اور پکارا جارہا ہے؟ اسی طرح یہ مقلدین بھی بہرے ہیں کہ حق کی آواز نہیں سنتے، گونگے ہیں کہ حق ان کی زبان سےنہیں نکلتا، اندھے ہیں کہ حق کے دیکھنے سے عاجز ہیں اور بےعقل ہیں کہ دعوت حق اور دعوت توحید وسنت کے سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہاں دعا سے قریب کی آواز اور ندا سے دور کی آواز مراد ہے۔