سورہ Al-Baqarah — آیت 148
گائے · 2:148 · 148/286
وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا ۖ فَٱسْتَبِقُوا۟ ٱلْخَيْرَٰتِ ۚ أَيْنَ مَا تَكُونُوا۟ يَأْتِ بِكُمُ ٱللَّهُ جَمِيعًا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
Walikullin wijhatun huwa muwalleehafastabiqoo alkhayrati aynama takoonoo ya'tibikumu Allahu jameeAAan inna Allaha AAalakulli shay-in qadeer
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور ہر ایک (فرقے) کے لیے ایک سمت (مقرر) ہے۔ جدھر وہ (عبادت کے وقت) منہ کیا کرتے ہیں۔ تو تم نیکیوں میں سبقت حاصل کرو۔ تم جہاں رہو گے خدا تم سب کو جمع کرلے گا۔ بے شک خدا ہر چیز پر قادر ہے
محمد جوناگڑھی
ہر شخص ایک نہ ایک طرف متوجہ ہو رہا ہے تم نیکیوں کی طرف دوڑو۔ جہاں کہیں بھی تم ہوگے، اللہ تمہیں لے آئے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
ہر ایک کے لیے ایک رُخ ہے ، جس کی طرف وہ مڑتا ہے۔ پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو۔ جہاں بھی تم ہو گے ، اللہ تمہیں پا لے گا۔ اُس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
) ہر ایک کے لیے ایک سمت ہے جس کی طرف وہ رخ کرتا ہے تم نیکیوں میں سبقت کرو جہاں کہیں بھی تم ہو گے اللہ تم سب کو جمع کر کے لے آئے گا یقیناً اللہ تعالیٰ ہرچیز پر قادر ہے۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
ہر شخص ایک نہ ایک طرف متوجہ ہو رہا ہے[1] تم نیکیوں کی طرف دوڑو۔ جہاں کہیں بھی تم ہوگے، اللہ تمہیں لے آئے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔
حواشی
[1] یعنی ہر مذہب والے نے اپنا پسندیدہ قبلہ بنا رکھا ہے جس کی طرف وہ رخ کرتا ہے۔ ایک دوسرا مفہوم یہ ہے کہ ہر ایک مذہب نے اپنا ایک منہاج اور طریقہ بنا رکھا ہے، جیسے قرآن مجید کے دوسرے مقام پر ہے: «لِكُلّٖ جَعَلۡنَا مِنكُمۡ شِرۡعَةٗ وَمِنۡهَاجٗاۚ وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَعَلَكُمۡ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ وَلَٰكِن لِّيَبۡلُوَكُمۡ فِي مَآ ءَاتَىٰكُمۡ» [المائدة: 48]. یعنی اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور ضلالت دونوں کی وضاحت کے بعد انسان کو ان دونوں میں سے کسی کو بھی اختیار کرنے کی جو آزادی دی ہے، اس کی وجہ ے مختلف طریقے اور دستور لوگوں نے بنا لئے ہیں جو ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو ایک ہی راستےیعنی ہدایت کے راستے پر چلا سکتا تھا، لیکن یہ سلب اختیارات کے بغیر ممکن نہ تھا اور اختیار دینے سے مقصود ان کا امتحان ہے۔ اس لئے اےمسلمانو! تم تو خیرات کی طرف سبقت کرو، یعنی نیکی اور بھلائی ہی کے راستے پر گامزن رہو اور یہ وحی الٰہی اور اتباع رسول (صلى الله عليه وسلم) ہی کا راستہ ہے جس سے دیگر اہل ادیان محروم ہیں۔