سورہ Al-Baqarah — آیت 145
گائے · 2:145 · 145/286
وَلَئِنْ أَتَيْتَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ بِكُلِّ ءَايَةٍ مَّا تَبِعُوا۟ قِبْلَتَكَ ۚ وَمَآ أَنتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ ۚ وَمَا بَعْضُهُم بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ ۚ وَلَئِنِ ٱتَّبَعْتَ أَهْوَآءَهُم مِّنۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلْعِلْمِ ۙ إِنَّكَ إِذًا لَّمِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
Wala-in atayta allatheena ootooalkitaba bikulli ayatin ma tabiAAooqiblataka wama anta bitabiAAin qiblatahum wamabaAAduhum bitabiAAin qiblata baAAdinwala-ini ittabaAAta ahwaahum min baAAdi ma jaakamina alAAilmi innaka ithan lamina aththalimeen
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور اگر تم ان اہلِ کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آؤ، تو بھی یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہ کریں۔ اور تم بھی ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں ہو۔ اور ان میں سے بھی بعض بعض کے قبلے کے پیرو نہیں۔ اور اگر تم باوجود اس کے کہ تمہارے پاس دانش (یعنی وحئ خدا) آ چکی ہے، ان کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے
محمد جوناگڑھی
اور آپ اگرچہ اہل کتاب کو تمام دلیلیں دے دیں لیکن وه آپ کے قبلے کی پیروی نہیں کریں گے اور نہ آپ ان کے قبلے کو ماننے والے ہیں اور نہ یہ آپس میں ایک دوسرے کے قبلے کو ماننے والے ہیں اور اگر آپ باوجودیکہ آپ کے پاس علم آچکا پھر بھی ان کی خواہشوں کے پیچھے لگ جائیں تو بالیقین آپ بھی ﻇالموں میں سے ہوجائیں گے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
تم ان اہلِ کتاب کے پاس خواہ کوئی نشانی لے آوٴ ، ممکن نہیں کہ یہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں، اور نہ تمہارے لیے یہ ممکن ہے کہ ان کے قبلے کی پیروی کرو، اور ان میں سے کوئی گروہ بھی دُوسرے کے قبلے کی پیروی کے لیے تیار نہیں، اور اگر تم نے اس علم کے بعد ، جو تمہارے پاس آچکا ہے ، ان کی خواہشات کی پیروی کی ، تو یقیناً تمہارا شمار ظالموں میں ہوگا۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور (اے نبی ﷺ !) اگر آپ ان اہل کتاب کے سامنے ہر قسم کی نشانیاں پیش کردیں تب بھی یہ آپ کے قبلے کی پیروی نہیں کریں گے اور نہ ہی اب آپ پیروی کرنے والے ہیں ان کے قبلے کی اور نہ ہی وہ ایک دوسرے کے قبلے کی پیروی کرنے والے ہیں اور (اے نبی ﷺ ! بالفرض) اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی اس علم کے بعد جو آپ کے پاس آچکا ہے تو بلاشبہ آپ بھی ظلم کرنے والوں میں سے ہوجائیں گے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور آپ اگرچہ اہل کتاب کو تمام دلیلیں دے دیں لیکن وه آپ کے قبلے کی پیروی نہیں کریں گے[1] اور نہ آپ ان کے قبلے کو ماننے والے ہیں[2] اور نہ یہ آپس میں ایک دوسرے کے قبلے کو ماننے والے ہیں[3] اور اگر آپ باوجودیکہ آپ کے پاس علم آچکا پھر بھی ان کی خواہشوں کے پیچھے لگ جائیں تو بالیقین آپ بھی ﻇالموں میں سے ہوجائیں گے۔[4]
حواشی
[1] کیوں کہ یہود کی مخالفت تو حسد وعناد کی بنا پر ہے، اس لئے دلائل کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ گویا اثرپذیری کے لئے ضروری ہے کہ انسان کا دل صاف ہو۔ [2] کیوں کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) وحی الٰہی کے پابند ہیں، جب تک آپ (صلى الله عليه وسلم) کو اللہ کی طرف سے ایسا حکم نہ ملے آپ ان کے قبلے کو کیوں کر اختیار کرسکتے ہیں۔ [3] یہود کا قبلہ صخرۂ بیت المقدس اور عیسائیوں کا بیت المقدس کی شرقی جانب ہے۔ جب اہل کتاب کے یہ دو گروہ بھی ایک قبلے پر متفق نہیں تو مسلمانوں سے کیوں یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں ان کی موافقت کریں گے۔ [4] یہ وعید پہلے بھی گزرچکی ہے، مقصد امت کو متنبہ کرنا ہے کہ قرآن وحدیث کے علم کے باوجود اہل بدعت کے پیچھے لگنا، ظلم اور گمراہی ہے۔