سورہ Al-Baqarah — آیت 141

گائے · 2:141 · 141/286

تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْـَٔلُونَ عَمَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

Tilka ommatun qad khalat laha makasabat walakum ma kasabtum wala tus-aloona AAammakanoo yaAAmaloon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

یہ جماعت گزر چکی۔ ان کو وہ (ملے گا) جو انہوں نے کیا، اور تم کو وہ جو تم نے کیا۔ اور جو عمل وہ کرتے تھے، اس کی پرسش تم سے نہیں ہوگی

محمد جوناگڑھی

یہ امت ہے جو گزرچکی، جو انہوں نے کیا ان کے لئے ہے اور جو تم نے کیا تمہارے لئے، تم ان کےاعمال کے بارے میں سوال نہ کئے جاؤ گے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

وہ کچھ لوگ تھے، جو گزر چکے اُن کی کمائی اُن کے لیے تھی اور تمہاری کمائی تمہارے لیے تم سے اُن کے اعمال کے متعلق سوال نہیں ہوگا"

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

وہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی ان کے لیے ہے جو کمائی انہوں نے کی اور تمہارے لیے ہے جو کمائی تم نے کی اور تم سے ان کے اعمال کے بارے میں سوال نہیں ہوگا

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

یہ امت ہے جو گزرچکی، جو انہوں نے کیا ان کے لئے ہے اور جو تم نے کیا تمہارے لئے، تم ان کےاعمال کے بارے میں سوال نہ کئے جاؤ گے۔[1]

حواشی

[1] اس آیت میں پھر کسب وعمل کی اہمیت بیان فرما کر بزرگوں کی طرف انتساب یا ان پر اعتماد کو بےفائدہ قرار دیا گیا۔ کیوں کہ «مَنْ بَطَّأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِه نَسَبُه» (صحيح مسلم كتاب الذكر والدعاء باب فضل الاجتماع على تلاوة القرآن) ”جس کو اس کا عمل پیچھے چھوڑ گیا، اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھائے گا۔“ مطلب ہے کہ اسلاف کی نیکیوں سے تمہیں کوئی فائدہ اور ان کے گناہوں پر تم سے مواخذہ نہیں ہوگا، بلکہ ان کے عملوں کی بابت تم سے یا تمہارے عملوں کی بابت ان سے نہیں پوچھا جائے گا۔ «وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى» (فاطر۔ 18) «وَأَنْ لَيْسَ لِلإِنْسَانِ إِلا مَا سَعَى»(النجم۔39) ”کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کی سعی اس نے کی۔“