سورہ Al-Baqarah — آیت 126
گائے · 2:126 · 126/286
وَإِذْ قَالَ إِبْرَٰهِـۧمُ رَبِّ ٱجْعَلْ هَـٰذَا بَلَدًا ءَامِنًا وَٱرْزُقْ أَهْلَهُۥ مِنَ ٱلثَّمَرَٰتِ مَنْ ءَامَنَ مِنْهُم بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ ۖ قَالَ وَمَن كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُۥ قَلِيلًا ثُمَّ أَضْطَرُّهُۥٓ إِلَىٰ عَذَابِ ٱلنَّارِ ۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ
Wa-ith qala ibraheemurabbi ijAAal hatha baladan aminan warzuqahlahu mina aththamarati man amana minhumbillahi walyawmi al-akhiri qalawaman kafara faomattiAAuhu qaleelan thumma adtarruhu ilaAAathabi annari wabi'sa almaseer
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ اے پروردگار، اس جگہ کو امن کا شہر بنا اور اس کے رہنے والوں میں سے جو خدا پر اور روزِ آخرت پر ایمان لائیں، ان کے کھانے کو میوے عطا کر، تو خدا نے فرمایا کہ جو کافر ہوگا، میں اس کو بھی کسی قدر متمتع کروں گا، (مگر) پھر اس کو (عذاب) دوزخ کے (بھگتنے کے) لیے ناچار کردوں گا، اور وہ بری جگہ ہے
محمد جوناگڑھی
جب ابراہیم نے کہا، اے پروردگار! تو اس جگہ کو امن واﻻ شہر بنا اور یہاں کے باشندوں کو جو اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہوں، پھلوں کی روزیاں دے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں کافروں کو بھی تھوڑا فائده دوں گا، پھر انہیں آگ کے عذاب کی طرف بےبس کردوں گا، یہ پہنچنے کی جگہ بری ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اور یہ کہ ابراھیم ؑ نے دعا کی : ”اے میرے رب ، اس شہر کو امن کا شہر بنا دے اور اس کے باشندو ں میں سے جو اللہ اور آخرت کو مانیں ، انھیں ہر قسم کے پھلوں کا رزق دے۔“ جو اب میں اس کے رب نے فرمایا ”اور جو نہ مانیں گا ، دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان تو میں اسے بھی دوں گا، مگر آخر کار اسے عذاب جہنم کی طرف گھسیٹوں گا، اور وہ بد ترین ٹھکانا ہے۔“
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور یاد کرو جبکہ ابراہیم ؑ نے دعا کی تھی : اے میرے پروردگار ! اس گھر کو امن کی جگہ بنا دے اور یہاں آباد ہونے والوں (یعنی بنی اسماعیل (ؑ) کو پھلوں کا رزق عطا کر جو کوئی ان میں سے ایمان لائے اللہ پر اور یوم آخر پر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور (تمہاری اولاد میں سے) جو کفر کرے گا تو اس کو بھی میں دنیا کی چند روزہ زندگی کا ساز و سامان تو دوں گا پھر اسے کشاں کشاں لے آؤں گا جہنم کے عذاب کی طرف اور وہ بہت بری جگہ ہے لوٹنے کی