سورہ Al-'Ankabut — آیت 53
مکڑی · 29:53 · 53/69
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِٱلْعَذَابِ ۚ وَلَوْلَآ أَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ ٱلْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
WayastaAAjiloonaka bilAAathabiwalawla ajalun musamman lajaahumu alAAathabuwalaya'tiyannahum baghtatan wahum la yashAAuroon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور یہ لوگ تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں۔ اگر ایک وقت مقرر نہ( ہو چکا) ہوتا تو اُن پر عذاب آبھی گیا ہوتا۔ اور وہ (کسی وقت میں) اُن پر ضرور ناگہاں آکر رہے گا اور اُن کو معلوم بھی نہ ہوگا
محمد جوناگڑھی
یہ لوگ آپ سے عذاب کی جلدی کر رہے ہیں۔ اگر میری طرف سے مقرر کیا ہوا وقت نہ ہوتا تو ابھی تک ان کے پاس عذاب آچکا ہوتا، یہ یقینی بات ہے کہ اچانک ان کی بے خبری میں ان کے پاس عذاب آپہنچے گا.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
ہ لوگ تم سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگر ایک وقت مقرر نہ کر دیا گیا ہوتا تو ان پر عذاب آچکا ہوتا۔ اور یقیناً(اپنے وقت پر)وہ آکر رہے گا اچانک ، اس حال میں کہ انہیں خبر بھی نہ ہو گی
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
یہ لوگ جلدی مچا رہے ہیں عذاب کی۔ اور اگر (پہلے سے) ایک وقت معینّ طے نہ ہوچکا ہوتا تو ضرور ان پر عذاب آچکا ہوتا اور وہ ان پر اچانک آجائے گا اور انہیں پتا بھی نہیں چلے گا
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
یہ لوگ آپ سے عذاب کی جلدی کر رہے ہیں[1] ۔ اگر میری طرف سے مقرر کیا ہوا وقت نہ ہوتا تو ابھی تک ان کے پاس عذاب آچکا ہوتا[2]، یہ یقینی بات ہے کہ اچانک ان کی بے خبری میں ان کے پاس عذاب آپہنچے گا.[3]
حواشی
[1] یعنی پیغمبر کی بات ماننے کے بجائے، کہتے ہیں کہ اگر تو سچا ہے تو ہم پر عذاب نازل کروا دے۔ [2] یعنی ان کے اعمال واقوال تو یقیناً اس لائق ہیں کہ انہیں فوراً صفحۂ ہستی سے ہی مٹا دیا جائے۔ لیکن ہماری سنت ہے کہ ہر قوم کو ایک وقت خاص تک مہلت دیتے ہیں، جب وہ مہلت عمل ختم ہو جاتی ہے تو ہمارا عذاب آجاتا ہے۔ [3] یعنی جب عذاب کا وقت مقرر آجائے گا تو اس طرح اچانک آئے گا کہ انہیں پتہ بھی نہیں چلےگا، یہ وقت مقرر وہ ہےجو اس نے اہل مکہ کے لئے لکھ رکھا تھا، یعنی جنگ بدر میں اسارت وقتل، یا پھر قیامت کا وقوع ہے جس کے بعد کافروں کے لئے عذاب ہی عذاب ہے۔