سورہ Al-Anfal — آیت 75

مال غنیمت · 8:75 · 75/75

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنۢ بَعْدُ وَهَاجَرُوا۟ وَجَـٰهَدُوا۟ مَعَكُمْ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ مِنكُمْ ۚ وَأُو۟لُوا۟ ٱلْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِى كِتَـٰبِ ٱللَّهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۢ

Wallatheena amanoo minbaAAdu wahajaroo wajahadoo maAAakum faola-ikaminkum waoloo al-arhami baAAduhum awlabibaAAdin fee kitabi Allahi inna Allahabikulli shay-in AAaleem

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کرگئے اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کرتے رہے وہ بھی تم ہی میں سے ہیں۔ اور رشتہ دار خدا کے حکم کی رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے

محمد جوناگڑھی

اور جو لوگ اس کے بعد ایمان ﻻئے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کیا۔ پس یہ لوگ بھی تم میں سے ہی ہیں اور رشتے ناتے والے ان میں سے بعض بعض سے زیاده نزدیک ہیں اللہ کے حکم میں، بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے واﻻ ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کر کے آگئے اور تمہارے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے لگے وہ بھی تم ہی میں شامل ہیں۔ مگر اللہ کی کتاب میں خون کے رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں، یقیناً اللہ ہر چیز کو جانتا ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور تمہارے ساتھ مل کر جہاد کیا تو (اے مسلمانو !) وہ تم میں سے ہی ہیں اور رحمی رشتے دار اللہ کے قانون میں ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں یقیناً اللہ ہرچیز کا علم رکھتا ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور جو لوگ اس کے بعد ایمان ﻻئے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کیا۔ پس یہ لوگ بھی تم میں سے ہی ہیں[1] اور رشتے ناتے والے ان میں سے بعض بعض سے زیاده نزدیک ہیں اللہ کے حکم میں[2]، بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے واﻻ ہے۔

حواشی

[1] یہ ایک چوتھے گروہ کا ذکر ہے جو فضیلت میں پہلے دو گروہوں کے بعد اور تیسرے گروہ سے، (جنہوں نے پہلے ہجرت نہیں کی تھی) پہلے ہے۔ [2] اخوت یا حلف کی بنیاد پر وراثت میں جو حصہ دار بنتے تھے، اس آیت سے اس کو منسوخ کر دیا گیا اب وارث صرف وہی ہوں گے جو نسبی اور سسرالی رشتوں میں منسلک ہوں گے۔ اللہ کی کتاب یا اللہ کے حکم سے مراد یہ ہے کہ لوح محفوظ میں اصل حکم یہی تھا۔ لیکن اخوت کی بنیاد پر صرف عارضی طور پر ایک دوسرے کا وارث بنا دیا گیا، جو اب ضرورت ختم ہونے پرغیر ضروری ہوگیا اور اصل حکم نافذ کر دیا گیا۔