سورہ Al-Anfal — آیت 67

مال غنیمت · 8:67 · 67/75

مَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَن يَكُونَ لَهُۥٓ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ تُرِيدُونَ عَرَضَ ٱلدُّنْيَا وَٱللَّهُ يُرِيدُ ٱلْـَٔاخِرَةَ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

Ma kana linabiyyin an yakoonalahu asra hatta yuthkhina fee al-arditureedoona AAarada addunya wallahuyureedu al-akhirata wallahu AAazeezun hakeem

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

پیغمبر کو شایان نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں جب تک (کافروں کو قتل کر کے) زمین میں کثرت سے خون (نہ) بہا دے۔ تم لوگ دنیا کے مال کے طالب ہو۔ اور خدا آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے

محمد جوناگڑھی

نبی کے ہاتھ میں قیدی نہیں چاہییں جب تک کہ ملک میں اچھی خونریزی کی جنگ نہ ہو جائے۔ تم تو دنیا کے مال چاہتے ہو اور اللہ کا اراده آخرت کا ہے اور اللہ زور آور باحکمت ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دے تم لوگ دنیا کے فائدے چاہتے ہو، حالانکہ اللہ کے پیشِ نظر آخرت ہے، اور اللہ غالب اور حکیم ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی ہوں جب تک کہ وہ (کافروں کو قتل کر کے) زمین میں خوب خونریزی نہ کر دے تم دنیا کا سازو سامان چاہتے ہو اور اللہ کے پیش نظر آخرت ہے۔ اور اللہ زبردست حکمت والا ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

نبی کے ہاتھ میں قیدی نہیں چاہییں جب تک کہ ملک میں اچھی خونریزی کی جنگ نہ ہو جائے۔ تم تو دنیا کے مال چاہتے ہو اور اللہ کا اراده آخرت کا ہے[1] اور اللہ زور آور باحکمت ہے۔

حواشی

[1] جنگ بدر میں ستر کافر مارے گئے اور ستر ہی قیدی بنا لئے گئے۔ یہ کفر واسلام کا چونکہ پہلا معرکہ تھا۔ اس لئے قیدیوں کے بارے میں کیا طرز عمل اختیار کیا جائے؟ ان کی بابت احکام پوری طرح واضح نہیں تھے۔ چنانچہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے ان ستر قیدیوں کے بارے میں مشورہ کیا کہ کیا کیا جائے؟ ان کو قتل کر دیا جائے یا فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے ؟ جواز کی حد تک دونوں ہی باتوں کی گنجائش تھی ۔ اسی لئے دونوں ہی باتیں زیر غور آئیں۔ لیکن بعض دفعہ جواز وعدم جواز سے قطع نظر حالات وظروف کے اعتبار سے زیادہ بہتر صورت اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں بھی ضرورت زیادہ بہتر صورت اختیار کرنے کی تھی۔ لیکن جواز کو سامنے رکھتے ہوئے کم تر صورت اختیار کر لی گئی، جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب نازل ہوا۔ مشورے میں حضرت عمررضی اللہ عنہ وغیرہ نے یہ مشورہ دیا کہ کفر کی قوت وشوکت توڑنے کے لئے ضروری ہے کہ ان قیدیوں کو قتل کر دیا جائے، کیونکہ یہ کفر اور کافروں کے سرغنے ہیں، یہ آزاد ہو کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زیادہ سازشیں کریں گے۔ جبکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ وغیرہ کی رائے اس کے برعکس یہ تھی کہ فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیا جائے اس مال سے آئندہ جنگ کی تیاری کی جائے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بھی اسی رائے کو پسند فرمایا جس پر یہ اور اس کے بعد کی آیات نازل ہوئیں، ”حَتَّى يُثْخِنَ فِي الأَرْضِ“ کا مطلب ہے کہ اگر ملک میں کفر کا غلبہ ہے (جیسا کہ اس وقت عرب میں کفر کا غلبہ تھا) تو کافروں کی خوں ریزی کرکے کفر کی قوت کو توڑنا ضروری ہے۔ اس نکتے کو نظر انداز کرکے تم نے جو فدیہ قبول کیا ہے تو گویا، زیادہ بہتر صورت کو چھوڑ کر کم تر صورت کو اختیار کیا ہے جو تمہاری غلطی ہے۔ بعد میں جب کفر کا غلبہ ختم ہو گیا تو قیدیوں کے بارے میں امام وقت کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ چاہے تو قتل کر دے، فدیہ لے کر چھوڑ دے یا مسلمان قیدیوں کے ساتھ تبادلہ کرلے اور چاہے تو ان کو غلام بنا لے، حالات وظروف کے مطابق کوئی بھی صورت اختیار کرنا جائز ہے۔