سورہ Al-Anfal — آیت 61
مال غنیمت · 8:61 · 61/75
۞ وَإِن جَنَحُوا۟ لِلسَّلْمِ فَٱجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ
Wa-in janahoo lissalmi fajnahlaha watawakkal AAala Allahi innahu huwa assameeAAualAAaleem
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ اور خدا پر بھروسہ رکھو۔ کچھ شک نہیں کہ وہ سب کچھ سنتا (اور) جانتا ہے
محمد جوناگڑھی
اگر وه صلح کی طرف جھکیں تو تو بھی صلح کی طرف جھک جا اور اللہ پر بھروسہ رکھ، یقیناً وه بہت سننے جاننے واﻻ ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اور اے نبیؐ، اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے آمادہ ہو جاؤ اور اللہ پر بھروسہ کرو، یقیناً وہی سننے اور جاننے والا ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور (اے نبی ﷺ !) اگر وہ اپنے بازو جھکا دیں امن کے لیے تو آپ بھی جھک جائیں اس کے لیے اور اللہ پر توکل کیجیے یقیناً وہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اگر وه صلح کی طرف جھکیں تو تو بھی صلح کی طرف جھک جا اور اللہ پر بھروسہ رکھ[1] ، یقیناً وه بہت سننے جاننے واﻻ ہے۔
حواشی
[1] یعنی اگر حالت جنگ کے بجائے صلح کے متقاضی ہوں اور دشمن بھی مائل بہ صلح ہو تو صلح کر لینے میں کوئی حرج نہیں ۔ اگر صلح سے دشمن کا مقصد دھوکہ اور فریب ہو، تب بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔ اللہ پر بھروسہ رکھیں، یقیناً اللہ دشمن کے فریب سے بھی محفوظ رکھے گا، اور وہ آپ کو کافی ہے ۔ لیکن صلح کی یہ اجازت ایسے حالات میں ہے جب مسلمان کمزور ہوں اور صلح میں اسلام اور مسلمانوں کا مفاد ہو ۔ لیکن جب معاملہ اس کے برعکس ہو، مسلمان قوت ووسائل میں ممتاز ہوں اور کافر کمزور اورہزیمت خوردہ تو اس صورت میں صلح کے بجائے کافروں کی قوت وشوکت کو توڑنا ضروری ہے ۔ (سورۂ محمد: 35) ”وَقَٰتِلُوهُمۡ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتۡنَةٞ“ (الأنفال: 39)