سورہ Al-Anfal — آیت 49
مال غنیمت · 8:49 · 49/75
إِذْ يَقُولُ ٱلْمُنَـٰفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَـٰٓؤُلَآءِ دِينُهُمْ ۗ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
Ith yaqoolu almunafiqoona wallatheenafee quloobihim maradun gharra haola-ideenuhum waman yatawakkal AAala Allahi fa-inna AllahaAAazeezun hakeem
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اس وقت منافق اور (کافر) جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے مغرور کر رکھا ہے اور جو شخص خدا پر بھروسہ رکھتا ہے تو خدا غالب حکمت والا ہے
محمد جوناگڑھی
جبکہ منافق کہہ رہے تھے اور وه بھی جن کے دلوں میں روگ تھا کہ انہیں تو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے جو بھی اللہ پر بھروسہ کرے اللہ تعالیٰ بلا شک وشبہ غلبے واﻻ اور حکمت واﻻ ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
جب کہ منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں کو روگ لگا ہوا ہے، کہہ رہے تھے کہ اِن لوگوں کو تو اِن کے دین نے خبط میں مبتلا کر رکھا ہے۔ حالانکہ اگر کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو یقیناً اللہ بڑا زبردست اور دانا ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
جب کہہ رہے تھے منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا اِن (مسلمانوں) کو تو ان کے دین نے بالکل دھوکے میں ڈال دیا ہے اور (انہیں کیا پتا کہ) جو کوئی توکل کرتا ہے اللہ پر تو اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
جبکہ منافق کہہ رہے تھے اور وه بھی جن کے دلوں میں روگ تھا[1] کہ انہیں تو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے[2] جو بھی اللہ پر بھروسہ کرے اللہ تعالیٰ بلا شک وشبہ غلبے واﻻ اور حکمت واﻻ ہے۔[3]
حواشی
[1] اس سے مراد یا تو وہ مسلمان ہیں جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور مسلمانوں کی کامیابی کے بارے میں انہیں شک تھا، یا اس سے مراد مشرکین ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ مدینہ میں رہنے والے یہودی مرادہوں۔ [2] یعنی ان کی تعداد تو دیکھو اور سروسامان کا جو حال ہے، وہ بھی ظاہر ہے۔ لیکن یہ مقابلہ کرنے چلے ہیں مشرکین مکہ سے، جو تعداد میں بھی ان سے کہیں زیادہ ہیں اور ہر طرح کے سامان حرب اور وسائل سے مالا مال بھی ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دین نے ان کو دھوکے اور فریب میں ڈال دیا ہے۔ اور یہ موٹی سی بات بھی ان کی سمجھ میں نہیں آرہی۔ [3] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان اہل دنیا کو اہل ایمان کے عزم وثبات کا کیا اندازہ ہو سکتا ہے جن کا توکل اللہ کی ذات پر ہے، جو غالب ہے یعنی اپنے بھروسہ کرنے والوں کو بے سہارا نہیں چھوڑتا اور حکیم بھی ہے اور اس کے ہر فعل میں حکمت بالغہ ہے جس کے ادراک سے انسانی عقلیں قاصر ہیں۔