سورہ Al-Anfal — آیت 46

مال غنیمت · 8:46 · 46/75

وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَنَـٰزَعُوا۟ فَتَفْشَلُوا۟ وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ۖ وَٱصْبِرُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّـٰبِرِينَ

WaateeAAoo Allaha warasoolahuwala tanazaAAoo fatafshaloo watathhaba reehukumwasbiroo inna Allaha maAAa assabireen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور آپس میں جھگڑا نہ کرنا کہ (ایسا کرو گے تو) تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہارا اقبال جاتا رہے گا اور صبر سے کام لو۔ کہ خدا صبر کرنے والوں کا مددگار ہے

محمد جوناگڑھی

اور اللہ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرتے رہو، آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر و سہارا رکھو، یقیناً اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور اللہ اور اُس کے رسول ؐ کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی۔ صبر سے کام لو، یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور حکم مانو اللہ کا اور اس کے رسول ﷺ کا اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ تم ڈھیلے پڑجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور ثابت قدم رہو۔ یقیناً اللہ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور اللہ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرتے رہو، آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر و سہارا رکھو، یقیناً اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔[1]

حواشی

[1] تیسری ہدایت، اللہ اور رسول کی اطاعت، ظاہر بات ہے ان نازک حالات میں اللہ اور رسول کی نافرمانی کتنی سخت خطرناک ہو سکتی ہے۔ اس لئے ایک مسلمان کے لئے ویسے تو ہر حالت میں اللہ اور رسول کی اطاعت ضروری ہے تاہم میدان جنگ میں اس کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے اور اس موقع پر تھوڑی سی بھی نافرمانی اللہ کی مدد سے محرومی کا باعث بن سکتی ہے۔ چوتھی ہدایت کہ آپس میں تنازع اور اختلاف نہ کرو، اس سے تم بزدل ہو جاؤ گے اور ہوا اکھڑ جائے گی۔ اور پانچویں ہدایت کہ صبر کرو! یعنی جنگ میں کتنی بھی شدت آجائے اور تمہیں کتنے بھی کٹھن مراحل سے گزرنا پڑے لیکن صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بھی ایک حدیث میں فرمایا: ”لوگو! دشمن سے مدبھیڑ کی آرزو مت کرو اور اللہ سے عافیت مانگا کرو! تاہم جب کبھی دشمن سے لڑائی کا موقع پیدا ہو جائے تو صبر کرو (یعنی جم کر لڑو) اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔“ (صحيح بخاري- كتاب الجهاد- باب كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا لم يقاتل أول النهار أخر القتال حتى تزول الشمس)