سورہ Al-Anfal — آیت 42
مال غنیمت · 8:42 · 42/75
إِذْ أَنتُم بِٱلْعُدْوَةِ ٱلدُّنْيَا وَهُم بِٱلْعُدْوَةِ ٱلْقُصْوَىٰ وَٱلرَّكْبُ أَسْفَلَ مِنكُمْ ۚ وَلَوْ تَوَاعَدتُّمْ لَٱخْتَلَفْتُمْ فِى ٱلْمِيعَـٰدِ ۙ وَلَـٰكِن لِّيَقْضِىَ ٱللَّهُ أَمْرًا كَانَ مَفْعُولًا لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنۢ بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَىَّ عَنۢ بَيِّنَةٍ ۗ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَسَمِيعٌ عَلِيمٌ
Ith antum bilAAudwati addunyawahum bilAAudwati alquswa warrakbuasfala minkum walaw tawaAAadtum lakhtalaftum feealmeeAAadi walakin liyaqdiya Allahuamran kana mafAAoolan liyahlika man halaka AAan bayyinatinwayahya man hayya AAan bayyinatin wa-innaAllaha lasameeAAun AAaleem
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر اور قافلہ تم سے نیچے (اتر گیا) تھا۔ اور اگر تم (جنگ کے لیے) آپس میں قرارداد کرلیتے تو وقت معین (پر جمع ہونے) میں تقدیم وتاخیر ہو جاتی۔ لیکن خدا کو منظور تھا کہ جو کام ہو کر رہنے والا تھا اسے کر ہی ڈالے تاکہ جو مرے بصیرت پر (یعنی یقین جان کر) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر (یعنی حق پہچان کر) جیتا رہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا جانتا ہے
محمد جوناگڑھی
جب کہ تم پاس والے کنارے پر تھے اور وه دور والے کنارے پر تھے اور قافلہ تم سے نیچے تھا۔ اگر تم آپس میں وعدے کرتے تو یقیناً تم وقت معین پر پہنچنے میں مختلف ہو جاتے۔ لیکن اللہ کو تو ایک کام کر ہی ڈالنا تھا جو مقرر ہو چکا تھا تاکہ جو ہلاک ہو، دلیل پر (یعنی یقین جان کر) ہلاک ہو اور جو زنده رہے، وه بھی دلیل پر (حق پہچان کر) زنده رہے۔ بیشک اللہ بہت سننے واﻻ خوب جاننے واﻻ ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
یاد کرو وہ وقت جبکہ تم وادی کے اِس جانب تھے اور وہ دُوسری جانب پڑاوٴ ڈالے ہوئے تھے اور قافلہ تم سے نیچے (ساحل ) کی طرف تھا۔ اگر کہیں پہلے سے تمہارے اور ان کے درمیان مقابلہ کی قرار داد ہو چکی ہوتی تو تم ضرور اس موقع پر پہلو تہی کرجاتے، لیکن جو کچھ پیش آیا وہ اس لیے تھا کہ جس بات کا فیصلہ اللہ کر چکا تھا اسے ظہور میں لے آئے تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیلِ روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیلِ روشن کے ساتھ زندہ رہے ، یقیناً خدا سُننے اور جاننے والا ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
جب تم لوگ تھے قریب والے کنارے پر اور وہ لوگ تھے دور والے کنارے پر اور قافلہ تم سے نیچے تھا اور اگر تم لوگ آپس میں میعاد ٹھہرا کر نکلتے تو بھی وقت مقررہ (پر پہنچنے) میں تم ضرور مختلف ہوجاتے لیکن (یہ سب کچھ اس لیے ہوا) تاکہ اللہ فیصلہ کردے اس کام کا جو ہونے ہی والا تھا تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ ہلاک ہو بات واضح ہوجانے کے بعد اور جسے زندہ رہنا ہے وہ زندہ رہے واضح دلیل کی بنا پر۔ یقیناً اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے