سورہ Al-Anfal — آیت 33
مال غنیمت · 8:33 · 33/75
وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ
Wama kana AllahuliyuAAaththibahum waanta feehim wama kanaAllahu muAAaththibahum wahum yastaghfiroon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور خدا ایسا نہ تھا کہ جب تک تم ان میں سے تھے انہیں عذاب دیتا۔ اور ایسا نہ تھا کہ وہ بخششیں مانگیں اور انہیں عذاب دے
محمد جوناگڑھی
اور اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرے گا کہ ان میں آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور اللہ ان کو عذاب نہ دے گا اس حالت میں کہ وه استغفار بھی کرتے ہوں۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اُس وقت تو اللہ ان پر عذاب نازل کرنے والا نہ تھا جبکہ تُو ان کے درمیان موجود تھا۔ اور نہ اللہ کا یہ قاعدہ ہے کہ لوگ استغفار کر رہے ہوں اور وہ اُن کو عذاب دیدے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان کو عذاب دیتا جبکہ (ابھی) آپ ﷺ ان کے درمیان موجود تھے اور اللہ ان کو عذاب دینے والا نہیں تھا جب کہ وہ استغفار بھی کر رہے تھے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرے گا کہ ان میں آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے[1] اور اللہ ان کو عذاب نہ دے گا اس حالت میں کہ وه استغفار بھی کرتے ہوں۔[2]
حواشی
[1] یعنی پیغمبر کی موجودگی میں قوم پر عذاب نہیں آتا، اس لحاظ سے آپ (صلى الله عليه وسلم) کا وجود گرامی بھی ان کے حفظ وامان کا سبب تھا ۔ [2] اس سے مراد یہ ہے کہ وہ آئندہ مسلمان ہو کر استغفار کریں گے، یا یہ کہ طواف کرتے وقت مشرکین ”غُفْرَانَكَ رَبَّنَا غُفْرَانكَ“ کہا کرتے تھے۔