سورہ Al-Anfal — آیت 25

مال غنیمت · 8:25 · 25/75

وَٱتَّقُوا۟ فِتْنَةً لَّا تُصِيبَنَّ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنكُمْ خَآصَّةً ۖ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

Wattaqoo fitnatan la tuseebannaallatheena thalamoo minkum khassatanwaAAlamoo anna Allaha shadeedu alAAiqab

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور اس فتنے سے ڈرو جو خصوصیت کے ساتھ انہیں لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں گنہگار ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے

محمد جوناگڑھی

اور تم ایسے وبال سے بچو! کہ جو خاص کر صرف ان ہی لوگوں پر واقع نہ ہو گا جو تم میں سے ان گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں اور یہ جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے واﻻ ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور بچو اُس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پرصرف اُنہی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنہوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو۔ اور جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور ڈرو اس فتنے سے جو تم میں سے صرف گنہگاروں ہی کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے گا اور جان لو کہ اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور تم ایسے وبال سے بچو! کہ جو خاص کر صرف ان ہی لوگوں پر واقع نہ ہو گا جو تم میں سے ان گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں[1] اور یہ جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے واﻻ ہے۔

حواشی

[1] اس سے مراد یا تو بندوں کا ایک دوسرے پر تسلط ہے جو بلا تخصیص، عام وخاص پر ظلم کرتے ہیں، یا وہ عام عذاب ہیں جو کثرت بارش یا سیلاب وغیرہ ارضی وسماوی آفات کی صورت میں آتے ہیں اور نیک وبد سب ہی ان سے متاثر ہوتے ہیں، یا بعض احادیث میں امربالمعروف ونہی عن المنکر کے ترک کی وجہ سے عذاب کی جو وعید بیان کی گئی ہے، وہ مراد ہے۔