سورہ Al-Anbya — آیت 81
پیغمبر · 21:81 · 81/112
وَلِسُلَيْمَـٰنَ ٱلرِّيحَ عَاصِفَةً تَجْرِى بِأَمْرِهِۦٓ إِلَى ٱلْأَرْضِ ٱلَّتِى بَـٰرَكْنَا فِيهَا ۚ وَكُنَّا بِكُلِّ شَىْءٍ عَـٰلِمِينَ
Walisulaymana arreehaAAasifatan tajree bi-amrihi ila al-ardiallatee barakna feeha wakunna bikullishay-in AAalimeen
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور ہم نے تیز ہوا سلیمان کے تابع (فرمان) کردی تھی جو ان کے حکم سے اس ملک میں چلتی تھی جس میں ہم نے برکت دی تھی (یعنی شام) اور ہم ہر چیز سے خبردار ہیں
محمد جوناگڑھی
ہم نے تند وتیز ہوا کو سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کر دیا جو اس کے فرمان کے مطابق اس زمین کی طرف چلتی تھی جہاں ہم نے برکت دے رکھی تھی، اور ہم ہر چیز سے باخبر اور دانا ہیں.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
ور سلیمانؑ کے لیے ہم نے تیز ہوا کو مسخّر کر دیا تھا جو اس کے حکم سے اُس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں، ہم ہر چیز کا علم رکھنے والے تھے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور (ہم نے مسخر کردیا تھا) سلیمان ؑ کے لیے تیز چلنے والی ہوا کو جو اس کے حکم سے چلتی تھی اس سرزمین کی طرف کہ جس میں ہم نے برکت عطا کی تھی اور ہم تمام چیزوں کا علم رکھنے والے ہیں
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
ہم نے تند وتیز ہوا کو سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کر دیا[1] جو اس کے فرمان کے مطابق اس زمین کی طرف چلتی تھی جہاں ہم نے برکت دے رکھی تھی، اور ہم ہر چیز سے باخبر اور دانا ہیں.
حواشی
[1] یعنی جس طرح پہاڑ اور پرندے حضرت داؤد (عليه السلام) کے لئے مسخر کر دیئے تھے، اسی طرح ہوا حضرت سلیمان (عليه السلام) کے تابع کر دی گئی تھی۔ وہ اپنے اعیان سلطنت سمیت تخت پر بیٹھ جاتے تھے اور جہاں چاہتے، مہینوں کی مسافت، لمحوں اور ساعتوں میں طے کرکے وہاں پہنچ جاتے، ہوا آپ کے تخت کو اڑا کر لے جاتی۔ بابرکت زمین سے مراد شام کا علاقہ ہے۔