سورہ Al-Anbya — آیت 45
پیغمبر · 21:45 · 45/112
قُلْ إِنَّمَآ أُنذِرُكُم بِٱلْوَحْىِ ۚ وَلَا يَسْمَعُ ٱلصُّمُّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا مَا يُنذَرُونَ
Qul innama onthirukum bilwahyiwala yasmaAAu assummu adduAAaaitha ma yuntharoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
کہہ دو کہ میں تم کو حکم خدا کے مطابق نصیحت کرتا ہوں۔ اور بہروں کوجب نصیحت کی جائے تو وہ پکار کر سنتے ہی نہیں
محمد جوناگڑھی
کہہ دیجئے! میں تو تمہیں اللہ کی وحی کے ذریعہ آگاه کر رہا ہوں مگر بہرے لوگ بات نہیں سنتے جبکہ انہیں آگاه کیا جائے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اِن سے کہہ دو کہ "میں تو وحی کی بنا پر تمہیں متنبہ کر رہا ہوں" مگر بہرے پکار کو نہیں سنا کرتے جبکہ اُنہیں خبردار کیا جائے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ میں تم لوگوں کو خبردار کرتا ہوں وحی کے ذریعے سے اور بہرے نہیں سنتے کسی پکار کو جب انہیں خبردار کیا جاتا ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
کہہ دیجئے! میں تو تمہیں اللہ کی وحی کے ذریعہ آگاه کر رہا ہوں مگر بہرے لوگ بات نہیں سنتے جبکہ انہیں آگاه کیا جائے.[1]
حواشی
[1] یعنی قرآن سنا کر انہیں وعظ و نصیحت کر رہا ہوں اور یہی میری ذمہ داری ہے اور منصب ہے۔ لیکن جن لوگوں کے کانوں کو اللہ نے حق کے سننے سے بہرا کر دیا، آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اور دلوں پر مہر لگا دی، ان پر اس قرآن کا اور وعظ و نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔