سورہ Al-An'am — آیت 95

مویشی · 6:95 · 95/165

۞ إِنَّ ٱللَّهَ فَالِقُ ٱلْحَبِّ وَٱلنَّوَىٰ ۖ يُخْرِجُ ٱلْحَىَّ مِنَ ٱلْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ ٱلْمَيِّتِ مِنَ ٱلْحَىِّ ۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ

Inna Allaha faliqu alhabbiwannawa yukhriju alhayya mina almayyitiwamukhriju almayyiti mina alhayyi thalikumu Allahufaanna tu'fakoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

بے شک خدا ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر (ان سے درخت وغیرہ) اگاتا ہے وہی جاندار کو بے جان سے نکالتا ہے اور وہی بےجان کا جاندار سے نکالنے والا ہے۔ یہی تو خدا ہے۔ پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو

محمد جوناگڑھی

بےشک اللہ تعالیٰ دانہ کو اور گٹھلیوں کو پھاڑنے واﻻ ہے، وه جاندار کو بے جان سے نکال ﻻتا ہے اور وه بے جان کو جاندار سے نکالنے واﻻ ہے اللہ تعالیٰ یہ ہے، سو تم کہاں الٹے چلے جا رہے ہو۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

دانے اورگھٹلی کو پھاڑنے والا اللہ ہے۔ وہی زندہ کو مُردہ سے نکالتا ہے اور وہی مُردہ کو زندہ سے خارج کرتا ہے۔ یہ سارے کام تو کرنے والا اللہ ہے، پھر تم کدھر بہکے چلے جا رہے ہو؟

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

یقیناً اللہ ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا ہے وہ نکالتا ہے زندہ کو مردہ میں سے اور وہی نکالنے والا ہے مردہ کو زندہ میں سے یہی تو ہے اللہ (اس کو پہچانو) لیکن تم کدھر الٹے جا رہے ہو

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

بےشک اللہ تعالیٰ دانہ کو اور گٹھلیوں کو پھاڑنے واﻻ ہے[1] ، وه جاندار کو بے جان سے نکال ﻻتا ہے[2] اور وه بے جان کو جاندار سے نکالنے واﻻ ہے[3] اللہ تعالیٰ یہ ہے، سو تم کہاں الٹے چلے جا رہے ہو۔

حواشی

[1] یہاں سے اللہ تعالیٰ کی بےمثل قدرت اور کاریگری کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ فرمایا:۔ اللہ تعالیٰ دانے (حب) اور گٹھلی (نواة، جمع نوى) کو، جسے کاشت کار زمین کی تہہ میں دبا دیتا ہے، پھاڑ کر اس سے انواع واقسام کے درخت پیدا فرماتا ہے۔ زمین ایک ہوتی ہے، پانی بھی، جس سے کھیتیاں سیراب ہوتی ہیں، ایک ہی ہوتا ہے، لیکن جس جس چیز کے وہ دانے یا گٹھلیاں ہوتی ہیں۔ اس کے مطابق ہی اللہ تعالیٰ مختلف قسم کے غلوں اور پھلوں کے درخت ان سے پیدا فرما دیتا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ کے سوا بھی، کوئی ہے، جو یہ کام کرتا ہو یا کرسکتا ہو؟ [2] یعنی دانے اور گٹھلیوں سے درخت اگا دیتا ہے جس میں زندگی ہوتی ہے اور وہ بڑھتا، پھیلتا اور پھل یا غلہ دیتا ہے یا وہ خوشبودار، رنگ برنگ کے پھول ہوتے ہیں جن کو دیکھ یا سونگھ کر انسان فرحت وانبساط محسوس کرتا یا نطفے اور انڈے سے انسان اور حیوانات پیدا کرتا ہے۔ [3] یعنی حیوانات سے انڈے، جو مردہ کے حکم میں ہیں۔ حی اور میت کی تعبیر مومن اور کافر سے بھی کی گئی ہے، یعنی مومن کے گھر میں کافر اور کافر کے گھر میں مومن پیدا کردیتا ہے۔