سورہ Al-An'am — آیت 81

مویشی · 6:81 · 81/165

وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِٱللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِۦ عَلَيْكُمْ سُلْطَـٰنًا ۚ فَأَىُّ ٱلْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِٱلْأَمْنِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

Wakayfa akhafu ma ashraktumwala takhafoona annakum ashraktum billahima lam yunazzil bihi AAalaykum sultanan faayyualfareeqayni ahaqqu bil-amni in kuntum taAAlamoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

بھلا میں ان چیزوں سے جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو کیونکرڈروں جب کہ تم اس سے نہیں ڈرتے کہ خدا کے ساتھ شریک بناتے ہو جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اب دونوں فریق میں سے کون سا فریق امن (اور جمعیت خاطر) کا مستحق ہے۔ اگر سمجھ رکھتے ہو (تو بتاؤ)

محمد جوناگڑھی

اور میں ان چیزوں سے کیسے ڈروں جن کو تم نے شریک بنایا ہے حاﻻنکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرایا ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی، سو ان دو جماعتوں میں سے امن کا زیاده مستحق کون ہے اگر تم خبر رکھتے ہو۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور آخر میں تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں سے کیسے ڈروں جبکہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی میں شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے لیے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی ہے؟ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بے خوفی و اطمینان کا مستحق ہے؟ بتاؤ اگر تم کچھ علم رکھتے ہو

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور میں کیسے ڈروں ان سے جنہیں تم نے شریک ٹھہرا رکھا ہے جب کہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرا لیے ہیں جن کے لیے اللہ نے تم پر کوئی سند نہیں اتاری تو (ہم دونوں) فریقین میں سے کون امن کا زیادہ حق دار ہے ؟ اگر تم علم رکھتے ہو تو (بتاؤ !)