سورہ Al-An'am — آیت 160
مویشی · 6:160 · 160/165
مَن جَآءَ بِٱلْحَسَنَةِ فَلَهُۥ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ۖ وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَىٰٓ إِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
Man jaa bilhasanatifalahu AAashru amthaliha waman jaa bissayyi-atifala yujza illa mithlaha wahum layuthlamoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور جو کوئی (خدا کے حضور) نیکی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی اور جو برائی لائے گا اسے سزا ویسے ہی ملے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
محمد جوناگڑھی
جو شخص نیک کام کرے گا اس کو اس کے دس گنا ملیں گے اور جو شخص برا کام کرے گا اس کو اس کے برابر ہی سزا ملے گی اور ان لوگوں پر ﻇلم نہ ہوگا۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
جو اللہ کے حضور نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے دس گنا اجر ہے، اور جو بدی لے کر آئے گا اس کو اتنا ہی بدلہ دیا جائے گا جتنا اس نے قصور کیا ہے، اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
جو شخص کوئی نیکی لے کر آئے گا تو اسے اس کا دس گنا اجر ملے گا اور جو کوئی بدی کما کر لائے گا تو اسے سزا نہیں ملے گی مگر اسی کے برابر اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
جو شخص نیک کام کرے گا اس کو اس کے دس گنا ملیں گے[1] اور جو شخص برا کام کرے گا اس کو اس کے برابر ہی سزا ملے گی[2] اور ان لوگوں پر ﻇلم نہ ہوگا۔
حواشی
[1] یہ اللہ تعالیٰ کے اس فضل واحسان کا بیان ہے جو اہل ایمان کے ساتھ وہ کرے گا کہ ایک نیکی کا بدلہ دس نیکیوں کے برابر عطا فرمائے گا۔ یہ کم ازکم اجر ہے۔ ورنہ قرآن اور احادیث دونوں سے ثابت ہے کہ بعض نیکیوں کا اجر کئی کئی سو گنا بلکہ ہزاروں گنا تک ملے گا۔ [2] یعنی جن گناہوں کی سزا مقرر نہیں ہے، اور اس کے ارتکاب کے بعد اس نے اس سے توبہ بھی نہیں کی یا اس کی نیکیاں اس کی برائیوں پر غالب نہ آئیں، یا اللہ نے اپنے فضل خاﺹ سے اسے معاف نہیں فرما دیا (کیونکہ ان تمام صورتوں میں مجازات کا قانون بروئے عمل نہیں آئے گا) تو پھر اللہ تعالیٰ ایسی برائی کی سزا دے گا اور اس کے برابر ہی دے گا۔