سورہ Al-An'am — آیت 136
مویشی · 6:136 · 136/165
وَجَعَلُوا۟ لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ ٱلْحَرْثِ وَٱلْأَنْعَـٰمِ نَصِيبًا فَقَالُوا۟ هَـٰذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـٰذَا لِشُرَكَآئِنَا ۖ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى ٱللَّهِ ۖ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَكَآئِهِمْ ۗ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ
WajaAAaloo lillahi mimma tharaamina alharthi wal-anAAami naseebanfaqaloo hatha lillahi bizaAAmihim wahathalishuraka-ina fama kana lishuraka-ihimfala yasilu ila Allahi wama kanalillahi fahuwa yasilu ila shuraka-ihimsaa ma yahkumoon
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
اور (یہ لوگ) خدا ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں خدا کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں اور اپنے خیال (باطل) سے کہتے ہیں کہ یہ (حصہ) تو خدا کا اور یہ ہمارے شریکوں (یعنی بتوں) کا تو جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو خدا کی طرف نہیں جا سکتا اور جو حصہ خدا کا ہوتا ہے وہ ان کے شریکوں کی طرف جا سکتا ہے یہ کیسا برا انصاف ہے
محمد جوناگڑھی
اور اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی اور مواشی پیدا کیے ہیں ان لوگوں نے ان میں سے کچھ حصہ اللہ کا مقرر کیا اور بزعم خود کہتے ہیں کہ یہ تو اللہ کا ہے اور یہ ہمارے معبودوں کا ہے، پھر جو چیز ان کے معبودوں کی ہوتی ہے وه تو اللہ کی طرف نہیں پہنچتی اور جو چیز اللہ کی ہوتی ہے وه ان کے معبودوں کی طرف پہنچ جاتی ہے کیا برا فیصلہ وه کرتے ہیں۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
ان لوگوں نے اللہ کے لیے خود اُسی کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصّہ مقرر کیا ہے اور کہتے ہیں یہ اللہ کے لیے ہے، بزعمِ خود، اور یہ ہمارے ٹھیراے ہوئے شریکوں کے لیے۔ پھر جو حصّہ ان کے ٹھیرائے ہوے شریکوں کے لیے ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا مگر جو اللہ کے لیے ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے۔ کیسے بُرے فیصلے کرتے ہیں یہ لوگ !
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور انہوں نے اللہ کے لیے رکھا ہے خود اسی کی پیدا کی ہوئی کھیتی اور مویشیوں میں سے ایک حصہ پھر کہتے ہیں اپنے خیال سے کہ یہ تو ہے اللہ کے لیے اور یہ ہے ہمارے شریکوں کے لیے۔ تو جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچ سکتا اور جو حصہ اللہ کا ہوتا ہے وہ ان کے شریکوں تک پہنچ جاتا ہے کیا ہی برا فیصلہ ہے جو یہ کرتے ہیں