سورہ Al-Ahzab — آیت 69

متحد گروہ · 33:69 · 69/73

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ ءَاذَوْا۟ مُوسَىٰ فَبَرَّأَهُ ٱللَّهُ مِمَّا قَالُوا۟ ۚ وَكَانَ عِندَ ٱللَّهِ وَجِيهًا

Ya ayyuha allatheena amanoola takoonoo kallatheena athaw moosafabarraahu Allahu mimma qaloo wakanaAAinda Allahi wajeeha

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

مومنو تم ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ (کو عیب لگا کر) رنج پہنچایا تو خدا نے ان کو بےعیب ثابت کیا۔ اور وہ خدا کے نزدیک آبرو والے تھے

محمد جوناگڑھی

اے ایمان والو! ان لوگوں جیسے نہ بن جاؤ جنہوں نے موسیٰ کو تکلیف دی پس جو بات انہوں نے کہی تھی اللہ نے انہیں اس سے بری فرما دیا، اور وه اللہ کے نزدیک باعزت تھے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ،  ان لوگوں کی طرح نہ بن جاؤ جنہوں نے موسیٰؑ کو اذیتیں دی تھیں ، پھر اللہ نے ان کی بنائی ہوئی باتوں سے اس کی برأت فرمائی اور وہ اللہ کے نزدیک با عزت تھا

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اے اہل ِایمان ! تم ان لوگوں کی مانند نہ ہوجانا جنہوں نے موسیٰ ؑ کو اذیت دی تھی تو اللہ نے اس کو بری ثابت کردیا اس بات سے جو انہوں نے کہی تھی اور وہ اللہ کے نزدیک بڑے مرتبے والا تھا۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اے ایمان والو! ان لوگوں جیسے نہ بن جاؤ جنہوں نے موسیٰ کو تکلیف دی پس جو بات انہوں نے کہی تھی اللہ نے انہیں اس سے بری فرما دیا[1] ، اور وه اللہ کے نزدیک باعزت تھے.

حواشی

[1] اس کی تفسیر حدیث میں اس طرح آئی ہے کہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) نہایت باحیا تھے، چنانچہ اپنا جسم انہوں نے کبھی لوگوں کے سامنے ننگا نہیں کیا۔ بنی اسرائیل کہنے لگے کہ شاید موسیٰ (عليه السلام) کے جسم میں برص کے داغ یا کوئی اس قسم کی آفت ہے جس کی وجہ سے یہ ہر وقت لباس میں ڈھکا چھپا رہتا ہے۔ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) تنہائی میں غسل کرنے لگے، کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھ دیئے، پتھر (اللہ کے حکم سے) کپڑے لے بھاگ کھڑا ہوا۔ حضرت موسی (عليه السلام) اس کے پیچھے پیچھے دوڑے، حتیٰ کہ بنی اسرائیل کی ایک مجلس میں پہنچ گئے، انہوں نے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو ننگا دیکھا تو ان کے سارے شبہات دور ہوگئے۔ موسیٰ (عليه السلام) نہایت حسین وجمیل اور ہر قسم کے داغ اور عیب سے پاک تھے۔ یوں اللہ تبارک وتعالیٰ نے معجزانہ طور پر پتھر کے ذریعے سے ان کی اس الزام اور شبہے سے براءت کردی جو بنی اسرائیل کی طرف سے ان پر کیا جاتا تھا (صحيح بخاري كتاب الأنبياء) حضرت موسیٰ (عليه السلام) کے حوالے سے اہل ایمان کو سمجھایا جا رہا ہے کہ تم ہمارے پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد (صلى الله عليه وسلم) کو بنی اسرائیل کی طرح ایذا مت پہنچاؤ اور آپ (صلى الله عليه وسلم) کی بابت ایسی بات مت کرو جسے سن کر آپ (صلى الله عليه وسلم) قلق اور اضطراب محسوس کریں، جیسے ایک موقعے پر مال غنیمت کی تقسیم میں ایک شخص نے کہا کہ اس میں عدل وانصاف سے کام نہیں لیا گیا۔ جب آپ (صلى الله عليه وسلم) تک یہ الفاظ پہنچے تو غضب ناک ہوئے حتیٰ کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کا چہرۂ مبارک سرخ ہوگیا آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”موسیٰ (عليه السلام) پر اللہ کی رحمت ہو، انہیں اس سے کہیں زیادہ ایذا پہنچائی گئی، لیکن انہوں نے صبر کیا“۔ (بخاري كتاب الأنبياء، مسلم، كتاب الزكاة، باب إعطاء المؤلفة قلوبهم على الإسلام..)۔