سورہ Al-Ahqaf — آیت 24
ریگستان · 46:24 · 24/35
فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا۟ هَـٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا ۚ بَلْ هُوَ مَا ٱسْتَعْجَلْتُم بِهِۦ ۖ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ
Falamma raawhu AAaridanmustaqbila awdiyatihim qaloo hatha AAaridunmumtiruna bal huwa ma istaAAjaltum bihi reehunfeeha AAathabun aleem
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
پھر جب انہوں نے اس (عذاب کو) دیکھا کہ بادل (کی صورت میں) ان کے میدانوں کی طرف آرہا ہے تو کہنے لگے یہ تو بادل ہے جو ہم پر برس کر رہے گا۔ (نہیں) بلکہ (یہ) وہ چیز ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے یعنی آندھی جس میں درد دینے والا عذاب بھرا ہوا ہے
محمد جوناگڑھی
پھر جب انہوں نے عذاب کو بصورت بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے تو کہنے لگے، یہ ابر ہم پر برسنے واﻻ ہے، (نہیں) بلکہ دراصل یہ ابر وه (عذاب) ہے جس کی تم جلدی کر رہے تھے، ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
پھر جب انہوں نے اُس عذاب کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگو”یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا۔“۔۔۔۔ ”نہیں، بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آرہا ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
پھر جب انہوں نے اس (عذاب) کو دیکھا بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کی طرف بڑھتے ہوئے تو انہوں نے کہا : یہ تو بادل ہے جو ہم کو سیراب کرنے والا ہے نہیں ! بلکہ یہ تو وہ شے ہے جس کے بارے میں تم نے جلدی مچارکھی تھی یہ وہ جھکڑ ّہے جس میں بہت دردناک عذاب ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
پھر جب انہوں نے عذاب کو بصورت بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے تو کہنے لگے، یہ ابر ہم پر برسنے واﻻ ہے[1] ، (نہیں) بلکہ دراصل یہ ابر وه (عذاب) ہے جس کی تم جلدی کر رہے تھے[2]، ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے.[3]
حواشی
[1] عرصہ دراز سے ان کے ہاں بارش نہیں ہوئی تھی، امنڈتے بادل دیکھ کر خوش ہوئے کہ اب بارش ہوگی۔ بادل کو عارض اس لئے کہا ہے کہ بادل عرض آسمان پر ظاہر ہوتا ہے۔ [2] یہ حضرت ہود (عليه السلام) نے انہیں کہا کہ یہ محض بادل نہیں ہے، جیسے تم سمجھ رہے ہو۔ بلکہ یہ وہ عذاب ہے۔ جسے تم جلد لانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ [3] یعنی وہ ہوا ، جس سے اس قوم کی ہلاکت ہوئی، ان بادلوں سے ہی اٹھی اور نکلی اور اللہ کی مشیت سے ان کو اور ان کی ہر چیز کو تباہ کر گئی۔ اسی لئے حدیث میں آتا ہے، حضرت عائشہ (رضی الله عنها) نے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) سےپوچھا کہ لوگ تو بادل دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہوگی، لیکن آپ (صلى الله عليه وسلم) کے چہرے پر اس کے برعکس تشویش کے آثار نظر آتے ہیں؟ آپ (صلى الله عليه وسلم) نےفرمایا : عائشہ (رضی الله عنها) اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اس بادل میں عذاب نہیں ہوگا، جب کہ ایک قوم ہوا کے عذاب سے ہی ہلاک کر دی گئی، اس قوم نے بھی بادل دیکھ کر کہا تھا یہ بادل ہےجو ہم پر بارش برسائے گا۔ (البخاري، تفسير سورة الأحقاف، مسلم، كتاب صلاة الاستسقاء باب التعوذ عند رؤية الريح والغيم والفرح بالمطر) ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب باد تند چلتی تو آپ (صلى الله عليه وسلم) یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا، وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ» اور جب آسمان پر بادل گہرے ہو جاتے تو آپ (صلى الله عليه وسلم) کا رنگ متغیر ہو جاتا اور خوف کی سی ایک کیفیت آپ (صلى الله عليه وسلم) پر طاری ہو جاتی جس سے آپ (صلى الله عليه وسلم) بے چین رہتے، کبھی باہر نکلتے، کبھی اندر داخل ہوتے، کبھی آگے ہوتے اور کبھی پیچھے پھر بارش ہو جاتی تو آپ (صلى الله عليه وسلم) اطمینان کا سانس لیتے۔ (صحیح مسلم، باب مذکور)۔