سورہ Al-A'raf — آیت 93
اونچی جگہ · 7:93 · 93/206
فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَـٰقَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَـٰلَـٰتِ رَبِّى وَنَصَحْتُ لَكُمْ ۖ فَكَيْفَ ءَاسَىٰ عَلَىٰ قَوْمٍ كَـٰفِرِينَ
Fatawalla AAanhum waqala yaqawmi laqad ablaghtukum risalati rabbee wanasahtulakum fakayfa asa AAala qawmin kafireen
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
تو شعیب ان میں سے نکل آئے اور کہا کہ بھائیو میں نے تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور تمہاری خیرخواہی کی تھی۔ تو میں کافروں پر (عذاب نازل ہونے سے) رنج وغم کیوں کروں
محمد جوناگڑھی
اس وقت شعیب (علیہ السلام) ان سے منھ موڑ کر چلے اور فرمانے لگے کہ اے میری قوم! میں نے تم کو اپنے پروردگار کے احکام پہنچا دیئے تھے اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی۔ پھر میں ان کافر لوگوں پر کیوں رنج کروں۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اور شعیبؑ یہ کہہ کر ان کی بستیوں سے نِکل گیا کہ ”اے برادرانِ قوم، میں نے اپنے ربّ کے پیغامات تمہیں پہنچا دیے اور تمہاری خیر خواہی کا حق ادا کر دیا۔ اب میں اُس قوم پر کیسے افسوس کروں جو قبولِ حق سے انکار کرتی ہے۔“
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
تو وہ ان کو چھوڑ کر چل دیا یہ کہتے ہوئے کہ اے میری قوم کے لوگو ! میں نے تو تمہیں پہنچا دیے تھے اپنے رب کے پیغامات اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی تھی تو اب میں کیسے افسوس کروں اس قوم پر جس نے کفر کیا ہے !
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اس وقت شعیب (علیہ السلام) ان سے منھ موڑ کر چلے اور فرمانے لگے کہ اے میری قوم! میں نے تم کو اپنے پروردگار کے احکام پہنچا دیئے تھے اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی۔ پھر میں ان کافر لوگوں پر کیوں رنج کروں۔[1]
حواشی
[1] عذاب وتباہی کے بعد جب وہ وہاں سے چلے، تو انہوں نے وفور جذبات میں یہ باتیں کہیں۔ اور ساتھ ہی کہا کہ جب میں نے حق تبلیغ ادا کر دیا اور اللہ کا پیغام ان تک پہنچا دیا، تو اب میں ایسے لوگوں پر افسوس کروں تو کیوں کروں؟ جو اس کے باوجود اپنے کفر اور شرک پر ڈٹے رہے۔